جوہری معاہدے پر امریکی پالیسی عالمی استحکام کے لیے خطرے کا باعث ہے،پیوٹن

ایرانی ایٹمی پروگرام کی از سر نو شروعات اسرائیل کے لئے سیکورٹی خطرہ ہو گی،روسی صدر

ہفتہ مئی 23:05

سینٹ پیٹربرگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ جوہری معاہدے پر امریکی پالیسی میں سخت تبدیلی عالمی استحکام کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے،ایرانی ایٹمی پروگرام کی شروعات اسرائیل کے لئے سیکورٹی خطرہ ہو گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی جوہری معاہدے سے امریکا کے الگ ہونے سے خطے میں عدم استحکام کا خدشہ ہے کیونکہ اگر تہران مکمل ایٹی پروگرام دوبارہ شروع کرتا ہے تو یہ اسرائیل کے لیے بھی نیا خطرہ پیدا کرے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر نے بزنس فورم سے سوال کیا کہ ہم شمالی کوریا کے ساتھ معاملات ٹھیک نہیں کرسکے تو کیا ہم اسی نوعیت کا ایک اور مسئلہ چاہتے ہیں۔

(جاری ہے)

روسی صدر نے کہا کہ امریکا نے 2015 کے معاہدے سے اس وقت علیحدگی اختیار کی جب عالمی جوہری ادارے نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ تہران اپنی ذمہ داریاں پوری کررہا تو کیا اس کے بعد اسے سزا ملنی چاہیے۔

خیال رہے کہ ایران کے ساتھ نئے معاہدے پر بات چیت کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران یورانیم کی پیداوار روکے اور شام، یمن،، لبنان اور افغانستان میں اپنی دخل اندازی ختم کرے۔ولادی میر پیوٹن کی جانب سے اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکا کے سابق صدر باراک اوبامہ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ معاہدے میں بات چیت کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا اور انہوں نے زور دیا تھا کہ امریکی پالیسی میں سخت تبدیلی عالمی استحکام کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی۔

روسی صدر نے کہا کہ اگر بین الاقوامی معاہدوں پر ہر 4 سال بعد نظر ثانی کی جائے گی تو یہ منصوبہ بندی کے لیے موضوع نہیں ہوگا اور یہ بداعتمادی اور پریشانی کی فضا پیدا کرے گا۔انہوں نے کہا اگر چہ اسرائیل نے امریکا کے معاہدے سے علیحدہ ہونے کی تعریف کی لیکن میں خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر ختم ہوگیا تو اس سے اسرائیلی سیکیورٹی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔