فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام نئے دور کا آغاز ہے، کے پی کے میں فاٹا کا انضمام جماعت اسلامی کی فتح ہے، حکومت فاٹا کو دس سال کیلئے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے، صنعتی بستیاں اور چھوٹے ڈیم بنائے جائیں،سی پیک میں فاٹا کو حصہ دیا جائے

شکیل آفریدی غدار اور قومی مجرم ہے، اس کی رہائی یا امریکہ بھجوانے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، سینیٹر مشتاق احمد خان

ہفتہ مئی 23:05

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام نئے دور کا آغاز ہے، فاٹا انضمام جماعت اسلامی کی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے، کے پی کے میں فاٹا کا انضمام جماعت اسلامی کی فتح ہے، حکومت فاٹا کو دس سال کیلئے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے، فاٹا میں صنعتی بستیاں اور چھوٹے ڈیم بنائے جائیں،،سی پیک میں فاٹا کو حصہ دیا جائے، فاٹا کو این ایف سی میں تین فیصد حصہ دیا جائے اور تیس ہزار نوجوانوں کو روزگار دیا جائے،،فاٹا میں ترقیاتی عمل تیز کرکے قبائلی عوام کا معیار زندگی ملک کے باقی شہریوں کے برابر لایا جائے،31ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا بل خیبر پختونخوا اسمبلی سے بھی بھاری اکثریت سے پاس کرائیں گے،نگران وزیراعظم کے نام پر تاحال اتفاق نہ ہونا تشویشناک ہے،حکومت اور اپوزیشن جلد نگران وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان کریں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکزالاسلامی پشاور میں جماعت اسلامی نوشہرہ کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد کی قیادت جماعت اسلامی ضلع نوشہرہ کے امیر حاجی انوارالاسلام کررہے تھے جبکہ اس میں ضلعی سیکرٹری جنرل رافت اللہ، نائب امیر حاجی عنایت الرحمن، جے آئی یوتھ ضلع نوشہرہ کے صدر جواد نبی سینا اورضلعی شوریٰ کے اراکین شامل تھے۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صدر مشرف کے شکیل آفریدی کی رہائی کے حوالے سے اخبارات میں شائع ہونے والے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سابق آرمی چیف نے امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے بجائے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکے جس کا خمیازہ پوری قوم آج بھی بھگت رہی ہے،شکیل آفریدی غدار اور قومی مجرم ہے، اس کی رہائی یا امریکہ بھجوانے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، حکومت نے پاکستانیوں کے قاتلوں ریمینڈ ڈیوس اور کرنل جوزف کو بھی بغیر کسی سزا کے امریکہ کے حوالے کیا گیا لیکن حکومت نے اس معاملے کی کوئی وضاحت نہیں کی۔

حکومت کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے تھی۔ ریمنڈ ڈیوس ، کرنل جوزف یا شکیل آفریدی کو امریکہ بھجوانے کا فیصلہ قومی سلامتی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان میں اربوں روپے خرچ کرکے امریکی سفارتخانہ بنایا جارہا ہے جبکہ امریکہ میں پاکستانی سفارتکاروں کی تذلیل کی جارہی ہے اور ان پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں ، لیکن پاکستان میں انہیں کھلی چھوٹ ہے اور انہیں اس حد تک آزادی دی گئی ہے کہ وہ کسی کو بھی قتل کردیں، پاکستان آزاد اور خودمختار ملک ہے، یہ امریکہ کی شکار گاہ نہیں ہے۔ حکومت امریکہ کو لگام دے ۔