نوشہرہ کلاں محلہ مانا خیل جنازگاہ کے قریب ایک کروڑ اسی لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ ٹیوب ویل ٹوٹ پھوٹ کا شکار محکمہ پبلک ہیلتھ کی غفلت سے ٹرانسفارمر چوری ہوچکا ،بل ادا نہ کرنیکی وجہ سے واپڈا والے میٹر بھی کر لے گئے

عوام گندہ پانی پینے پر مجبور ، علاقے کی 90 فیصد لوگ ہیپاٹائٹس اے بی اور سی میں مبتلا ہوچکے ہیں

ہفتہ مئی 23:07

نوشہرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) نوشہرہ کلاں محلہ مانا خیل جنازگاہ کے قریب ایک کروڑ اسی لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ ٹیوب ویل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ،ٹیوب ویل سے عوام کو ابھی تک پانی نہ مل سکا ، ٹیوب ویل محکمہ پبلک ہیلتھ نے تعمیر کیاتھا ان کی غفلت کی وجہ سے ٹرانسفارمر چوری ہوچکا ہے جبکہ بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے محکمہ واپڈا والے میٹر بھی لے گئے ،علاقے کے عوام گندہ پانی پینے پر مجبور 90 فیصد عوام ہیپاٹائٹس اے بی اور سی میں مبتلا ہوچکے ہیں ،کروڑوں روپے لاگت سے تعمیر کردہ فلٹریشن پلانٹ اور ٹیوب ویل ابھی تک چالو نہیں ہوسکے ،صوبائی حکومت کے دعوے صرف دعوے ہی رہ گئے کیونکہ انہوں نے عوام نے جو وعدے کئے وہ پورے نہیں کئے بلکہ عوام کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے نوشہرہ کلاں کے عوام زہر الود اور گندہ پانی پینے کی وجہ سے ہسپتالوں میں پہنچ گئے ہسپتالوں میں بھی ہیپاٹائٹس اے بی سی کی طبی امداد کی سہولت موجود نہیں۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق نوشہرہ کلاں کے علاقوں مانا خیل، جوہرآباد، ملک آباد، اباخیل، بجلی گھر، سمندر گھڑی، مسلم بازار، ہوتی خیل، الہ یارخیل، ضوانی خیل اور دیگر علاقوں میں کئی عرصے سے گندہ پانی پینے سے بچے بوڑھے، نوجوان اور خواتین مختلف امراض کے شکار ہوچکے ہیں اور یہ پانی حالیہ سیلاب کی وجہ سے گندہ ہوچکا ہے موجودہ حکومت میں عوام سے وعدے تو بہت کئے لیکن اپنی پانچ سالہ دور حکومت میں نوشہرہ کلاں کو صاف فراہم نہ کرسکا فلٹریشن پلانٹ اور ٹیوب ویل تعمیر تو کئے گئے لیکن چالو نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے عوام صاف پانی سے محروم ہیں حالانکہ نوشہرہ کلاں کے عوام نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرائیں لیکن نوشہرہ کلاں کے مسائل ابھی تک حل نہیں ہوسکے پانی کا مسئلہ بنیادی مسئلہ ہے لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی گلی محلوں میں پانی کے پمپ تو نصب کئے گئے لیکن اس کی صفائی کیلئے کوئی توجہ نہیں دی گئی اور ان پمپوں سے بھی عوام زہر آلود پانی پینے پر مجبور ہیں۔

متعلقہ عنوان :