سینیٹر سراج الحق کاٹی وی پروگراموں کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل کرنے کے فیصلے پر اظہار تشویش

آئین پاکستان میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ اور قرآن و سنت کی بالادستی کو تسلیم اورواضح طور پر قرار دیا گیا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور یہاں اسلام کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا ،امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کابیان

ہفتہ مئی 23:25

سینیٹر سراج الحق کاٹی وی پروگراموں کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے چینلز پر پانچ وقت اذان اور اسلامی تعلیمات پر مبنی پروگرامات نشر کرنے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کو معطل کرنے کے فیصلے پر سخت حیرت ، دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین پاکستان کے سراسر منافی قرار دیاہے اور کہاہے کہ ڈویژن بنچ کے فیصلے سے ملک بھر کے عوام کو سخت مایوسی ہوئی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ آئین پاکستان میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ اور قرآن و سنت کی بالادستی کو تسلیم کیا گیا ہے اور واضح طور پر قرار دیا گیا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور یہاں اسلام کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا ۔انہوںنے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کے فیصلہ نے کروڑوں عوام کے دلوں کی ترجمانی کی تھی لیکن ڈویژن بنچ کے ججز حضرات کے فیصلے نے پاکستان کے کروڑوں عوام کو مایوسی اور تشویش میں مبتلا کردیاہے ۔

(جاری ہے)

ان لوگوں کو اسلامی ریاست میں مغربی اور ہندووانہ کلچر پر کبھی اعتراض نہیں ہوا جبکہ اذان کی آواز سے انہیں کوفت ہوتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ڈویژن بنچ کا فیصلہ اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے اس سے فوری طور پر رجوع کرنا اوراسے واپس لینا ضروری ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے اللہ کے غضب کو للکارنے والے اس فیصلے پر سخت افسوس کا ا ظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان ججز حضرات کو بھی اللہ کے حضور پیش ہوناہے ۔

چینلز پر افطاری و سحری کے اوقات میں درود شریف اور قومی و ملکی سلامتی کے لیے دعائیں کرانے کے فیصلے نے خیر و برکت کا جو ماحول پیدا کیا تھا ، ڈویژن بنچ نے اس کو بھی نقصان پہنچایا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ججز حضرات اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں ، اس فیصلے سے عوام کے اندر سخت مایوسی پائی جارہی ہے اور ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملک پر کوئی عذاب ناز ل نہ ہو جائے ۔

دریں اثنا 10 رمضان باب الاسلام سندھ کے بارے میں اپنے ایک بیان میں سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قائد اعظم نے فرمایاتھا کہ برصغیر میں پاکستان اسی دن بن گیا تھا جب محمد بن قاسم نے سندھ کی دھرتی پر قدم رکھا تھا ۔10 رمضان المبارک برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا روشن ترین باب ہے ۔ سندھ سے اسلام کی روشنی پورے برصغیر میں پھیلی اور محمد بن قاسم نے ایک بہن کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے سمندر کا سینہ چیر کر دیبل پر حملہ کیا اور ظالم و جابر راجہ داہر کو عبرت ناک شکست دے کر یہا ں اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی ۔

انہوں نے کہاکہ آج فلسطین اور کشمیر کی بیٹیاں پھر کسی محمد بن قاسم کی راہ دیکھ رہی ہیں ۔ اگر آج امت میں صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم ہوتے تو دنیا بھر میں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا نہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسی بہن کسی دشمن کی قید میں ہوتیں ۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ بزدل حکمرانوں نے مسلمانوں کی عزت و وقار کو خا ک میں ملا دیاہے ۔ قوم کو چاہیے کہ متحد ہو کر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے باکردار اور خوف خدا رکھنے والی قیادت کا انتخاب کرے ۔