نظریہ پاکستان اور تحریک پاکستان سے انحراف بہت بڑا جرم ہے، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی

ہفتہ مئی 23:27

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا ہے کہ نظریہ پاکستان اور تحریک پاکستان سے انحراف بہت بڑا جرم ہے،،پاکستان فرقوں یا کسی خاندان کا ملک نہیں، اس کا ایک نظریہ ہے جو اس کی اساس، قوت اور وراثت ہے،خوشحال اور پڑھا لکھا پاکستان کا نعرہ تو لگ رہا ہے مگر نظریہ پاکستان کی بات نہیں کی جارہی۔

کشمیر کا مسئلہ دفاع پاکستان اور تکمیل پاکستان کی جنگ ہے،،بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی افغانستان میں شکست کھا چکے‘ انڈیا بھی مقبوضہ کشمیر میں نہیں ٹھہر سکے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملیر کے علاقے جامعہ ملیہ روڈ کے مقامی لان میں افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا کہ وطن عزیز ایک مشکل دور سے گزرہا ہے۔ نظریے کی قوت سے ہی بیرونی دبا? سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ حکمران مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔ آج اس موضوع پر بات ہی نہیں کی جاتی۔ ایسا نہ کرنا غیر قومی سوچ کا مظہر ہے اور وجہ صرف نظریہ پاکستان سے دوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آج ہمارے ملک میں نظریہ کی نفی کی جارہی ہے۔

سازش کے تحت نوجوانوں کو نظریہ پاکستان سے دور اور گروہ بندیوں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ ان کوششوں سے پاکستان غیر محفوظ ملک قرار پائے گا۔ حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا کہ بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، اگر امریکا سولہ سال تک کچھ نہیں کر سکا اور شکست کھا گیا تو انڈیا بھی کچھ نہیں کر سکے گا۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ نظریہ پاکستان سے وفا کی جائے۔ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر ملک حاصل ہوا اسی نظریہ پر عمل کرنے سے ہی اس کا دفاع ممکن ہے۔