سندھ اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں 48گھنٹے باقی

سندھ میں نگران وزیراعلیٰ کی تقرری پروزیراعلی سندھ اوراپوزیشن لیڈر میں مشاورت نہ ہوسکی

ہفتہ مئی 23:44

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) سندھ اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں 48 گھنٹے باقی،،سندھ میں نگران وزیراعلیٰ کی تقرری پروزیراعلی سندھ اوراپوزیشن لیڈر میں مشاورت نہ ہوسکی ، اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے نگران وزیراعلی کے لیے تین نام پیش کردیے گئے، پیپلزپارٹی کی خاموشی کے باعث مرکز کی طرح سندھ میں نگران وزیراعلی کی تقرری کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی یا الیکشن کمیشن جانے کے امکانات پیدا ہونے لگے۔

سندھ میں نگران وزیراعلی کی تقرری کا معاملہ ڈرامائی صورت اختیارکررہا ہے اب جبکہ سندھ اسمبلی اورحکومت سندھ کی مدت ختم ہونے میں صرف 48 گھنٹے کا وقت رہ گیا ہے نگران وزیراعلی کی تقرری کے معاملے پروزیراعلی سندھ اور اپوزیشن لیڈرمیں تاحال کوئی بیٹھک نہیں ہوسکی ہے۔

(جاری ہے)

اپوزیشن جماعتوں نے نگران وزیراعلی کے لیے اپنے اپنے نام پیش کردیے ہیں تحریک انصاف کی جانب سے سندھ میں نگران وزیراعلی کے لیے سابق چیف سیکریٹری فضل الرحمن اور جسٹس امیر ہانی مسلم کے نام پیش کیے گئے ہیں جبکہ مسلم لیگ فنکشنل پہلے ہی سابق وزیراعلی سندھ جسٹس ریٹائرڈ سید غوث علی شاہ کا نام پیش کرچکی ہے جبکہ ایم کیوایم نے سابق مشیرِ داخلہ آفتاب احمد شیخ کا نام پیش کیا ہے تاہم پیپلزپارٹی کی جانب سے ابھی تک نگران وزیراعلی کے لیے فائنل نام پیش نہیں کیے گئے ۔

معتمد ترین ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کی تقرری کے معاملے پر مرکز میں حالیہ سیاسی ہلچل کے باعث پیپلزپارٹی نے اپنی پالیسی تبدیل کرلی ہے اس سے قبل پیپلزپارٹی کی یہ کوشش تھی کہ نگران وزیراعلی کی تقرری کا معاملہ قائد ایوان اورقائد خزب اختلاف کی مشاورت میں حل کرلیا جائے تاہم مستقبل میں انتخابات سے پہلے احتساب کے خدشہ کے پیش نظر پیپلزپارٹی سندھ میں نگران وزیراعلی کا تقرراپنی صوابدید کی بجائے پارلیمانی کمیٹی یا الیکشن کمیشن میں طے کرنے کی خواہشمند نظرآتی ہے اورپیپلزپارٹی نگران وزیراعلی کی تقرری اپنے سرلینے پرآمادہ دکھائی نہیں دیتی جس کی وجہ سے نگران وزیراعلی کے معاملہ پرفی الحال مرکز میں ہونے والی پیش رفت اورپارٹی قیادت کے حتمی اشارے تک پیپلزپارٹی ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اورسندھ میں نگران وزیراعلی کامعاملہ پارلیمانی کمیٹی اورالیکشن کمیشن میں جانے کا امکان ہے ۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہارالحسن نے رابطہ کرنے پربتایا کہ سندھ میں نگران وزیراعلی کی تقرری کی تاخیرکی ذمہ دارپیپلزپارٹی ہے اپوزیشن جماعتوں نے اپنے نام پیش کردیے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کی جانب سے نگران وزیراعلی کے لیے کوئی نام دیا گیا ہے نہ ہی اپوزیشن کوآگاہ کیا گیا ہے اور وزیراعلی سندھ نے باضابطہ ملاقات کے لیے ابھی تک کوئی رابطہ بھی نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہونا یہ چاہیئے تھا کہ وزیراعلی اوراپوزیشن لیڈرملکرپہلے مرحلے میں یہ معاملہ طے کرلیتے لیکن حالات سے لگتاہے کہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی یا الیکشن کمیشن میں جائے گا انہوں نے کہاکہ اڑتالیس گھنٹے بچے ہیں پیپلزپارٹی کومشاورت کرنی ہے تو ہم سے رابطہ کرے، شاید پیپلزپارٹی یہ معاملہ اپوزیشن سے طے نہیں کرنا چاہتی اورمعاملہ آگے ریفرکرنے کی خواہشمند ہے ۔

ادھرپی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد وزیراعلی گرین سگنل ملتے ہی اپوزیشن لیڈرسے ملاقات کریں گے۔ سندھ میں حکمران جماعت پیپلزپارٹی نگران وزیر اعلی کے لئے 3ناموں پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے جن میں انجئنئیرہمیر سومرو، ڈاکٹر یونس سومرو اور جسٹس(ر) غلام سرور کورائی سمیت پانچ دیگر شخصیات کے نام شامل ہیں