عوام سے فراڈ کے ذریعے لوٹی گئی رقوم کی متاثرین کو بروقت واپسی نیب کی اولین ترجیج ہے، چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال

اتوار مئی 01:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کی اولین ترجیح مختلف ہائوسنگ سوسائٹیوں/کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیوں، مضاربہ/مشارکہ، بینک فراڈ اور دیگر فراڈ وغیرہ کے ذریعے عوام کی جمع پونجی کو بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے متعلقہ اداروں اور متاثرین کو بروقت واپسی ہے جس کا ثبوت آج نیب نے مختلف ہائوسنگ سوسائٹیوں اور اداروں سے تقریباً 11 کروڑ روپے برآمد کرکے 809 متاثرین کو واپس کر رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈ کوارٹرز میںخطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب اس وقت تک بدعنوان عناصر سے 296 ارب روپے برآمد کرکے مختلف اداروں اور متاثرین میں تقسیم کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ’’’احتساب سب کیلئے‘‘ کی پالیسی پر بلاامتیاز عمل پیرا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بدعنوان عناصر کی گرفتاری کے علاوہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی قانون کے مطابق گرفتاری کا حکم دیا تھا جس کے نتیجہ میں گذشتہ 7 ماہ میں 226 ملزمان گرفتار کئے گئے جبکہ 271 افراد کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے گئے۔

مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور اب تک گذشتہ 7 ماہ کے دوران 25 مفرور/اشتہاری ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عنقریب نجی ہائوسنگ/کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیوں کے معاملات دیکھنے والے سرکاری اداروں خصوصاً سی ڈی اے،، آر ڈی اے، آئی سی ٹی، ایل ڈی اے، پی ڈی اے، کیو ڈی اے اور کے ڈی اے کے افسران پر مشتمل ایک میٹنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ تمام متعلقہ اداروں کو ان کی ذمہ داریوں اور کوتاہیوں سے آگاہ کرنے کے علاوہ مستقل بنیادوں پر ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ جعلی اور بوگس نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں کو عوام کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹنے سے قبل ازوقت روکا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کا الیکشن سے پہلے اور بعد کوئی تعلق نہیں، نیب کی تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر قانون کے مطابق شروع کی جاتی ہیں اور اگر مقدمہ نہ بنتا ہو تو میرٹ پر مقدمہ بند کر دیا جاتا ہے کیونکہ کسی سے انتقامی کارروائی نیب کی نہ پالیسی ہے اور نہ ہی نیب اس پر یقین رکھتا ہے، نیب کسی صوبے، ادارے اور شخص کی پراوہ کئے بغیر صرف اور صرف قانون کے مطابق بلاامتیاز بدعنوان عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے سرگرم عمل ہے۔

متعلقہ عنوان :