ایران میں تبدیلی سے امریکی مراد نظام کی تبدیلی ہے،سینئر تجزیہ نگار

ایران جوہری اور میزائل اسلحہ کی تیاری بند کرنے کے مطالبات پرعمل درآمد نہیں کرے گا

اتوار مئی 12:20

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) امریکا میں مقیم ایک سینئر ایرانی تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ امریکا کا ایران میں تبدیلی سے مطلب ایرانی سیاسی نظام کی بساط لپیٹ کرنیا سیاسی نظام تشکیل دینا ہے۔ ایران اپنی پالیسی تبدیل کرے تو اس سے مراد ایرانی نظام میں تبدیل کا مطالبہ ہے۔عرب ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں ایرانی تجزیہ نگار رضا برتشی زادہ نے کہا کہ ایران دہشت گردی کی حمایت ترک کرنے، خطے میں مداخلت روکنے اور اپنے جوہری اور میزائل اسلحہ کی تیاری بند کرنے کے مطالبات پرعمل درآمد نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عہدیداروں کی طرف سے ایرانی نظام میں تبدیلی کی اعلانیہ مہم نہ چلانے کے پیچھے بین الاقوامی تعلقات کا احترام آڑے آ رہا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکی پابندیاں ایران پر اثر انداز ہوسکیں گی تو ان کا کہنا تھا کہ امریکا جس شدت کی ایران پر پابندیاں عاید کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، وہ ایران کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈالیں گی۔

(جاری ہے)

ان پابندیوں سے ایران خاطر خواہ کمزور ہوگا۔ تاہم ان کاکہنا تھا کہ جنگ اور پابندیوں میں فرق یہ ہے کہ جنگ کا فوری اثر ہوتا ہے اور پابندیوں کا فوری اثر نہیں ہوتا، البتہ بتدریج ملک کمزور ہونا شروع ہوتا ہے۔امریکا کی طرف سے جب ایرانی حکومت سے اپنے طرز عمل کو تبدیل کرنے پر زور دیا جاتا ہے تو اس سے مراد کیا لی جاتی ہے تو اس کیجواب میں رضا برتشی زادہ کا کہنا تھا کہ امریکا اصل میں ایرانی نظام کو بدلنا چاہتا ہے۔

جب امریکی ایران کی پالیسی میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو وہ ایرانی نظام کو بدلنے کی بات کرتے ہیں۔جہاں تک ایرانی نظام کے نظریات کو تبدیل کرنے کی بات ہے تو یہ ناممکن ہے کیونکہ یہ نظام اختتام کائنات کے نظریاتی اصول پرقائم ہے جو کسی دوسرے اصول کا پابند نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اس کے بعض یورپی اتحادی ایرانی نظام کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگرچہ امریکی عہدیدار کھلے عام ایران میں نظام کی تبدیلی کا نعرہ نہیں لگاتے مگر ان کی غیراعلانیہ پالیسی ایران میں نظام کی تبدیلی ہے۔

متعلقہ عنوان :