وہ پہلا اسلامی ملک جو 2020ء تک طیاروں کے پرزہ جات کی تیاری شروع کردے گا

سعودی عرب میں سول طیاروں کے اسپئرپارٹس کی تیاری 2019ء میں شروع ہونے کا امکان ہے، ایئر کرافٹ ایکیوپمنٹ کمپنی

اتوار مئی 12:20

وہ پہلا اسلامی ملک جو 2020ء تک طیاروں کے پرزہ جات کی تیاری شروع کردے گا
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) سعودی عرب کی فوجی سازو سامان تیار کرنے کی ذمہ دار کمپنی سامی نے جدہ شہر میں جہازوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے اسپئرپارٹس کی تیاری کے لیے کام تیزی سے جاری رکھا ہوا ہے۔ ہوائی جہازوں کی کمپنی اے اے سی سی کے ساتھ مل کر 2020ء تک ہوائی جہازوں کے اسپیرپارٹس کی تیاری شروع کردے گی۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی ایئر کرافٹ ایکیوپمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر انجینئرمنصور العید نے بتایاکہ فرم 2020ء سے ٹائیفون طیاروں کے اسپیرپارٹس کی تیاری شروع کردے گی تاہم سول طیاروں کے اسپئرپارٹس کی تیاری 2019ء میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر ہوائی جہازوں کے پرزہ جات کی تیاری سے اخراجات میں کمی، ان کی درآمدات سے منافع کمانے اور قومی پیدواواری صلاحیت میں اضافے کے بے پناہ مواقع پیدا ہوں گے۔

(جاری ہے)

مسلح افواج کو بیرون ملک سے جہازوں کے پرزے منگوانے کی پریشانی ختم ہوگی اور پبلک سیکٹر میں ہزاروں سعودی شہریوں کو روزگار مہیا جا سکے گا۔۔جدہ میں جہازوں کے پرزہ جات کی تیاری کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں ڈاکٹر منصور العید نے کہا کہ سعودی عرب طیاروں کے پرزہ جات کی تیاری میں جلد خود کفیل ہوجائیگا۔

انہوں نے کہاکہ ہم جہازوں کے ٹائر، ان کے اندر استعمال ہونے والی فریم، جہازوں بڑے، عقبی اور چھوٹے پر تیار کیے جائیں گے۔ جدہ میں تیاری کیبعد انہیں الظہران بھیجا جائے گا جہاں ان میں دوسرے پرزہ جات کی فٹنگ کی جائے گی۔ دیگر پرزہ جات میں بھی زیادہ تر سعودی عرب کے اندر ہی تیار کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ تین سال کے دوران ہم نے 450 سعودی شہریوں کو اس شعبے میں روزگار فراہم کیا ہے۔

ہمارے پاس جہازوں کے پرزہ جات اور آلات کی تیاری کے لیے بے پناہ مواقع ہیں۔ ہم مزید شعبوں میں بھی ملازمتیں تخلیق کریں گے۔منصور العید کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نہ صرف خود طیاروں کے پرزہ جات میں خود کفیل ہوگا بلکہ ہم علاقائی سطح پر بھی دوسرے ممالک کی بھی اسپئرپارٹس کی تیاری میں مدد کریں گے۔آئندہ دو سال کے دوران سعودی عرب میں قائم ایسے کارخانوں میں سعودی شہریوں کے تناسب کو 62 فی صد سے بڑھا کر 80 فی صد تک لایا جائے گا۔