مقبوضہ کشمیر، جامع مسجدکے ارد گردبھارتی فورسز کا حصار قائم کرنا اس کی اہمیت کو ختم کرنے کی سازش ہے،جماعت اسلامی

اتوار مئی 12:40

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میںجماعت اسلامی نے جامع مسجد سرینگر میں نمازیوں پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کی شدیدمذمت کرتے ہوئے اسے جارحانہ اقدام سے قراردیا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جماعت اسلامی کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں کو کشمیری مسلمانوں کے مال و جان کی کوئی پروانہیں اور انہیں یہاں قتل عام کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے فوراً بعد ملوث اہلکاروں کے خلاف کیس درج کرکے ان کو گرفتار کیا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کو ایک پولیس سٹیٹ میں تبدیل کردیا گیاہے اور اس کی باگ ڈور ایسے افسروں کے ہاتھوں میں دی گئی ہے جن کو کشمیری عوام کے جینے مرنے سے کوئی واسطہ نہیں اور وہ اٴْن کو ہر سطح پر دبانے کے لیے اپنے اختیارات کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ ہر جمعہ کو جامع مسجد سرینگر کے ارد گردبھارتی فورسز کا حصار قائم کرکے لوگوں کو اشتعال دلایا جاتا ہے اور وہ عبادت گاہ کے بجائے ایک فوجی چھائونی لگتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت جامع مسجد کی اہمیت کو ختم کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایسے اقدامات کئے جاتے ہیں تاکہ عوام جامع مسجد میں اللہ کی عبادت ترک کریں اور اس طرح اس کی تاریخی اہمیت ختم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حریت پسندرہنمائوں اور کارکنوں کو بے بنیاد کیسوں میں پھنسا کر نظر بند کیا جارہاہے اور انہیں عوام کے ساتھ رابطہ کرنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا جارہا ۔ ترجمان نے کہاکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کو بالخصوص اسی وجہ سے سالہاسال سے گھر میں نظربند رکھا گیا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ ان واقعات کا سنجیدہ نوٹس لیں اور ایک غیر جانبدارادارے کے ذریعے ان کی تحقیقات کروائیں۔ ترجمان نے جامع مسجد واقعے میں زخمی ہونے والے افراد سے مکمل یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔