گھیا کدو کی فصل پر لال بھونڈی کے حملہ کے خدشہ کے پیش نظر کاشتکاروں کو فوری تدارکی اقدامات کی ہدایت

اتوار مئی 13:10

فیصل آباد۔27 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) ماہرین زراعت نے گھیا کدو کی فصل پر موسم گرما کی شدت میں اضافہ کے باعث لال بھونڈی کے حملہ کے خدشہ سے بچنے کیلئے کاشتکاروں کو فوری حفاظتی و تدارکی اقدامات کرنے کی ہدایت کی اورکہاہے کہ پھل بنتے وقت گھیا کدو کی فصل کو انتہائی نگہداشت اور خصوصی دیکھ بھال کی اشد ضرورت ہوتی ہے کیونکہ موسم گرما کے دوران لال بھونڈی گھیا کدو کی فصل کے پتوں اوراس کے پھول پر حملہ آور ہو کر انہیں کھا جاتی ہے اور جوں جوں حملہ شدت اختیار کرتا جاتا ہے ویسے ویسے گھیا کدوکا پھل سوکھ کر گرنا شروع ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

ماہرین زراعت نے بتایاکہ پھل کی مکھی تیار شدہ پھل میں سوراخ کر کے گھیا کدومیں داخل ہوجاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موزیک وائرس کی بیماری رس چوسنے والے کیڑوں کے حملہ کی وجہ سے پھیلتی ہے جس سے ابتداء میں فصل کے پتے ہلکے سبز رنگے کے ہوجاتے ہیں اس طرح حملہ شدہ بیل پرپھول نہیں بنتا یا بہت کم بنتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جونہی فصل پر لال بھونڈی کاحملہ ظاہر ہو تو اس بیل کو اکھاڑکر زمین میں تلف کر دیا جائے تاکہ وہ مزید پھیلائو کا موجب نہ بن سکے ۔

متعلقہ عنوان :