کپاس کی فصل پر پانی کی کمی کے باعث منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، ماہرین زراعت

اتوار مئی 13:10

فیصل آباد۔27 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) پانی کے معاملے میں انتہائی حساس ترین فصل کپاس پر پانی کی کمی کے باعث منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیںجبکہ گزشتہ سال پنجاب میں 54لاکھ 34ہزار ایکڑ رقبہ سی91لاکھ 45ہزار گانٹھ کی پیداوار حاصل ہوئی ہے تاہم آبپاشی کی ضروریات پوری کرکے کپاس کی پیداوار میں اضافہ کیاجاسکتاہے۔ زرعی ماہرین نے بتایا کہ کپاس دنیا کی اہم ترین ریشہ دار فصل ہے اور کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے جبکہ صوبہ پنجاب میںمجموعی پیداوار کا تقریباًً80فیصد پیدا ہوتا ہے۔

انہوںنے کہاکہ اچھی زمین میں عام طور پر موسمی حالات اور کپاس کی ظاہری علامات کو مد نظر رکھتے ہوئے آغاز سے لے کر شروع اکتوبر تک کم از کم پانچ سے چھ دفعہ آبپاشی کی سفارش کی جاتی ہے تاہم کاشتکار پانی کا صحیح استعمال پودے کی ضرورت اور زمین کی ساخت کو سامنے رکھ کر کریں اور فصل کو پانی صرف اسی وقت لگانا چاہئے جس وقت صحیح معنوں میں فصل کو پانی کی ضرورت ہو نیز پہلے پانی کے بعد فصل کو پانی زمین کی خاصیت، پودے کی علامات اور موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے لگاناچاہیے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ جب فصل کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو پودے کچھ علامات ظاہر کرتے ہیں جن میں کھیت کے اونچے اور کلراٹھے حصوں پر پودوں کا رنگ کھیت کے باقی پودوں کی نسبت گہرا سبز ہوتا ہے اس حالت میں فصل کو دو تین دن کے اندر پانی لگانا چاہئے اورجب کچھ پودوں کی چوٹی کے نزدیک پھول نظر آنا شروع ہو جائیں تو فصل کو پانی لگا نا بھی ضروری ہے ۔ انہوںنے کہاکہ دراصل پودوں کی چوٹی کے نزدیک ڈوڈیاں (گڈیاں) نمایاں نظر آنی چاہئیںاورکپاس کا پودا جیسے جیسے قد کرتاہے تو نیچے سے تنے کا رنگ سرخی مائل ہونا شروع ہوجاتا ہے اور یہ رنگ پودے کی چوٹی کی طرف بڑھتا ہے جہاں یہ رنگ ختم ہوتا ہے وہاں سے چوٹی تک تنا 4سی5 انچ سبز ہونا چاہئے تاہم اگر 4 انچ سے کم ہو تو فصل کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر تنا 5 انچ سے زیادہ سبز ہے تو فصل پانی کی زیادتی کی وجہ سے غیر ضروری بڑھوتری کا شکار ہو جاتی ہے۔

انہوںنے کہاکہ پانی کی کمی کی صورت میں گانٹھوں کا درمیانی فاصلہ بھی کم ہوجاتا ہے لہٰذا ایسی صورت میں پانی لگانا بہت ضروری ہے۔انہوںنے کہاکہ پودے کی ظاہری علامات کی بنیاد پر پانی لگانے سے اکثر اوقات فصل کو کچھ نہ کچھ نقصان ضرور پہنچ جاتا ہے اس لیے کھیت میں نسبتاً اونچی جگہ کے پودوں پر نگاہ رکھنی چاہیے تاکہ زمین میں نمی کی مقدارمعلوم ہوتی رہے۔