رقبے اور وقت کے حساب سے زیادہ آمدنی کے باعث تل کی فصل بہترین نقد آور فصل کی حیثیت اختیارکرگئی

اتوار مئی 13:10

فیصل آباد۔27 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) کم خرچ پر کاشت ، رقبے اور وقت کے حساب سے زیادہ آمدنی کے باعث تل کی فصل بہترین نقد آور فصل کی حیثیت اختیارکرگئی ہے جبکہ کم دورانیے کی حامل مذکورہ روغن دار فصل کے بیج میں 50فیصد سے زائد اعلیٰ خصوصیات کا حامل خوردنی تیل اور 22فیصد اچھی قسم کی پروٹین موجود ہوتی ہے۔محکمہ زراعت فیصل آباد کے ترجمان نے کہاکہ کاشتکارتل جیسی غیر روائتی فصلات کی کاشت اورجدید پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل کر کے بہترین منافع حاصل کرسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تل موسم خریف کی ایک اہم فصل ہے لہٰذا کاشتکار تل کی فصل سے بہتر پیداوار کے حصول کے لیے 15 جون سے 15جولائی تک کاشت کاعمل مکمل کرلیں اور مذکورہ کاشت لائنوں میں ڈرل سے کرتے ہوئے 40فیصدتک پیداوار میں اضافہ ممکن بنائیں۔ انہوںنے کہاکہ اس ضمن میں ڈیڑھ سے دو کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کیاجائے اور منظور شدہ نئی اقسام ٹی ایچ۔ 6 اور ٹی ایس ۔5 کی کاشت کو ترجیح دی جائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکارخالص ، صحت منداور بیماریوں سے محفوظ بیج استعمال کریں۔انہوں نے بتایا کہ بیج کو جڑ، تنے کی سڑانڈ اور اکھیڑا کی بیماریوں سے بچانے کے لیے مناسب پھپھوند کش زہر بحساب 2گرام فی کلوگرام استعمال کیاجائے ۔

متعلقہ عنوان :