امریکا میں قدرتی گیس کی پیداوار میں اضافہ،2020 ء تک دنیا کا تیسرا بڑا برآمد کنندہ بننے کا امکان

اتوار مئی 13:10

نیویارک ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) ماہرین نے کہا ہے کہ امریکا میں قدرتی گیس کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور 2020 ء کے اختتام تک یہ دنیا کا تیسرا بڑا برآمد کنندہ بن جائے گا۔قدرتی گیس کے حوالے سے تحقیق کار برینے ڈوفرٹی نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قدرتی گیس کی پیداوار بالخصوص شیل گیس کی پیداوار میں اضافے کی پالیسی کے باعث اس کی پیداوار مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب اس کو نئی منڈیوں اور خریداروں کی تلاش ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا میں شیل گیس کی پیداوار میں اضافے کے باعث وہ 2009 ء سے قدرتی گیس کا سب سے بڑا پیداواری ملک ہے، 2017 ء کے دوران اس کی قدرتی گیس کی پیداوار 2 ارب مکعب میٹر یومیہ رہی۔امریکا پہلے ہی کینیڈا اور میکسیکو کو پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس کی سپلائی کررہا ہے تاہم اب وہ اپنی گیس کی برآمد کے لیے نئی منڈیاں تلاش کررہا ہے، زیادہ فاصلے پر ہونے کی وجہ سے ان مارکیٹوں کو پائپ کے ذریعے گیس کی سپلائی ممکن نہیں جس سے نمٹنے کے لیے ایل این جی کی تیاری پر زور دیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر قدرتی گیس کی پیداوار اور برآمد میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا تو امریکا 2020 ء کے آخر تک آسٹریلیا اور قطر کے بعد ایل این جی کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن جائے گا۔