عراقی حکومت کی تشکیل کے لیے متقدیٰ الصدر اوروزیراعظم العبادی ایک ہوگئے

دھاندلی الزامات کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے کام شروع کر دیا

اتوار مئی 14:00

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) عراق میں وزیراعظم حیدر العبادی کے مقرّب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شیعہ رہ نما مقتدی الصدر کے سائرون بلاک کے ساتھ اتحاد کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔دوسری جانب اخباری ذرائع نے بتایا ہے کہ کردوں کی دو مرکزی جماعتیں باہمی مفاہمت کے ذریعے اکٹھا ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ نوری المالکی کا بلاک اسٹیٹ آف لاء اور ہادی العامری کا الفتح بلاک بھی ایرانی سرپرستی میں ساتھ ہو گئے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق توقع ہے کہ العبادی اور الصدر کے درمیان آئندہ اتحاد مخلتف سنی اور کرد فریقوں کو اپنی جانب کھینچے گا تا کہ پارلیمنٹ میں سب سے بڑا بلاک تشکیل دیا جا سکے جو 160 کے قریب نشستیں جمع کر لے گا۔ واضح رہے کہ حکومت چلانے کے لیے 165 نشستوں کی اکثریت مطلوب ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب ایران کی سرپرستی میں مفاہمت کے حوالے سے نئی خبریں دیں۔

ان خبروں کے مطابق کردوں کی دو مرکزی جماعتیں اور نوری المالکی اور ہادی العامری کے بلاک اکٹھے ہو گئے ۔ اس نوعیت کی خبریں بھی اِفشا ہوئی ہیں کہ نوری المالکی کی جانب سے 140 نشستیں جمع کر لینے کا امکان ہے۔ادھر وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے تشکیل کردہ خصوصی کمیٹی نے کام شروع کر دیا ہے۔ سکیورٹی اداروں ، مالیاتی آڈٹ اور شفافیت سے متعلق اداروں کے سربراہان پر مشتمل یہ کمیٹی حالیہ انتخابات میں بے ضابطگیوں اور دھاندلیوں کے حوالے سے الزامات کے بارے میں رپورٹ پیش کرے گی۔