حکومت اہم شراکت داروں کے ساتھ مل کر معیشت کے بڑے مسائل سمیت ٹیکس کے معاملات حل کرے ، اوورسیز انوسٹرز کا مطالبہ

اتوار مئی 14:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر برونواولیرہوک نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت او آئی سی سی آئی جیسے معیشت کے اہم شراکت داروں کے ساتھ مل کر معیشت کے بڑے مسائل، ٹیکس کے معاملات، ٹیکس ریفنڈز اور سرکلرڈیٹ، وفاق اور صوبوں کے درمیان پالیسیوں میں ہم آہنگی، بہتر طرزِ حکمرانی اور ایک شفاف ، مستقل اور ترقی پسند پالیسی فریم ورک جیسے معاملات حل کرے - گزشتہ روز او آئی سی سی آئی کے بزنس کانفیڈنس انڈکس سروے کے نتائج پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے او آئی سی سی آئی کے صدر برونواولیرہوک نے کہا کہ کاروباری طبقے کے اعتماد میں کمی حیران کن نہیں ہے کیونکہ گزشتہ 6ماہ میں ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا رہا ہے جن میں بیلنس آف پیمنٹ، غیریقینی سیاسی حالات اور اس سے متعلق میڈیاکی رپورٹس، زرِ مبادلہ میں کمی، پاکستان کے ایکسچینج ریٹ میں نمایاں کمی اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کی شمولیت جس سے پاکستانی معیشت کے متعلق خدشات کے بارے میں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس شامل ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ اعلیٰ حکام اور معیشت کے اہم شراکت داروں اور ان سے منسلک قائدین کیلئے یہ ایک تشویش کی بات ہے۔ حالیہ سروے میں لاہور اور راولپنڈی شہروں میں کاروباری اعتماد میں اضافے کے باوجود کراچی کے کاروباری اعتماد میں 18 فیصد کمی کی وجہ سے مجموعی طورپر ملک کے میٹروپولیٹن شہروں کے کاروباری اعتماد میں 8 فیصد کمی آئی ہے۔ غیر میٹرو شہروں کے کاروباری اعتماد میں بھی 3 فیصد کمی آئی ہے۔

اگلے چھ مہینے کیلئے ویو 16 سروے کے جواب دہندگان کی جانب سے شناخت کی جانے والی اہم وجوہات میں ایک اہم وجہ متوقع کم منافع اورسرمایہ کاری پر ریٹرن میں غیر یقینی کے علاوہ آئندہ انتخابات کی وجہ سے ہونے والا سیاسی عدم استحکام بھی ہے۔ توانائی کے بحران کا دوبارہ سے سراٹھانا اور مستقبل میں سیکیوریٹی کی غیر یقینی صورتِ حال بھی مستقبل میں قنوطیت بڑھانے کی بڑی وجوہات ہیں۔

مثبت پہلوؤ ں میں سے کل ملازمتوں میں اضافہ، کاروبار میں توسیع کے منصوبے، سیکیورٹی میں بہتری، نئے کاروباری اتحادیوں ((سی پیک))کی توقعات اور طلب میں اضافہ جیسے امور شامل تھے۔ برونو اولیرہوک نے کہا کہ او آئی سی سی آئی کے ممبران کو یقین ہے کہ حقیقی پبلک پرائیویٹ شراکت داری اور تمام مسائل پر صوبائی اور وفاقی حکومت کی بروقت اور فعال مداخلت سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ، برآمدات، اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں اضافہ اور عالمی بینک کی 2018ء کی کاروبار کرنے کی آسانی سے متعلق رپورٹ میں پاکستان کی 190 میں سے مایوس کن 147 ریٹنگ کو اوپر لانے میں مدد ملے گی اورپاکستان وہ اقتصادی ترقی اور خوشحالی حاصل کرسکتا ہے جس کا وہ مستحق ہے۔