بنگلہ دیش میں منشیات اسمگلروں کے خلاف کارروائی،60افرادہلاک،3000گرفتار

منشیات فروشی کے خلاف کارروائی کے بہانے ہمارے رانمائوں اور کارکنان کو ہدف بنایاگیا،اپوزیشن کا فورسزپر الزام

اتوار مئی 15:00

ڈھاکہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) ملک بھر میں منشیات کے اسمگلروں کے خلاف کارروائی کے دوران، بنگلہ دیش میں سکیورٹی اہل کاروں نے بتایا ہے کہ دارالحکومت کے ایک علاقے میں چھاپے کے دوران کم از کم 100 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، ایسے میں جب یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ کارروائی کے دوران ماورائے عدالت ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں۔

حکام اور مقامی ذرائع ابلاغ کے اعداد و شمار کے مطابق، بنگلہ دیش میں سخت کارروائی کے دوران 60 مشتبہ منشیات اسمگلر ہلاک جب کہ 3000سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ کے احکامات پر اس ماہ کے اوائل میں اس کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔اہلکاروں اور مقامی میڈیا نے بتایا کہ چھاپوں کے دوران سکیورٹی حکام اور مشتبہ افراد کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکتیں واقع ہوئیں۔

(جاری ہے)

لیکن، حقوق انسانی کے گروپوں نے بتایا کہ ماورائے عدالت ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ملک کی حزب مخالف کی اہم جماعت، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے کہا کہ غیر قانونی منشیات فروشی کے خلاف کارروائی کے بہانے سکیورٹی اداروں نے اٴْن کے کئی راہنمائوں اور کارکنان کو ہدف بنایا ہے۔کچھ اہل خانہ نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ سادہ لباس میں ملبوس افراد نے مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جب کہ بعد میں اٴْن کی لاشیں ملی ہیں۔حکام نے اِن الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ منشیات فروشوں کے خلاف لڑائی کے دوران صفر برداشت کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ حکومت نے کہا کہ متعدد مشتبہ افراد کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے الزامات ہیں۔