مقبوضہ کشمیر، پولیو مریض کے اہلخانہ نے این آئی اے کا دعویٰ مسترد کردیا

اتوار مئی 15:10

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں 47سالہ پولیو کے مریض منیر الحسن قادری کے اہلخانہ نے نگروٹہ کیمپ حملے میں ان کے ملوث ہونے کے بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے نے ان کو انعامات حاصل کرنے کے لیے ملوث کیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق منیر کی اہلیہ شاہدہ بیگم نے سرینگر میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کے شوہر سرینگر کے علاقے مصطفیٰ آباد زینہ کوٹ میں اپنے بھائی کے پاس رہتے ہیں۔

ان کوڈیڑھ ماہ پہلے پارمپورہ پولیس نے بلایا اور بعد میں ان کو تین ہفتوں سے زیادہ عرصے تک کارگومیں نظربند رکھا گیا۔ بعد میں ان کو خانیار پولیس سٹیشن اور وہاں سے سینٹرل جیل سرینگر منتقل کیاگیا۔ منیر کے بھائی کا کہنا ہے کہ ہمیں ان کی ضمانت کرانے کے لیے کہا گیاتاکہ انہیں رہا کیا جائے۔

(جاری ہے)

شاہدہ نے کہاکہ ان کی ساس سید ہ بی بی کی عمر103سال ہے اور وہ منیر سے ملنا چاہتی ہے۔

چند روز پہلے ہم ان کوسینٹرل جیل ملنے کے لیے لے گئے لیکن انہیں اپنے بیٹے سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہمیںخانیار پولیس سٹیشن سے کال آئی کہ منیر کو ان کے دوست سے غیر قانونی لکڑی کی برآمدگی کے بارے میں ایک کیس کے سلسلے میں جموں کی عدالت میں لے جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز (اتوار )کوہمیں ذرائع ابلاغ کے ذریعے معلوم ہوا کہ منیر کو این آئی اے دہلی لے گئی ہے جس نے اس کو ایک جھوٹے کیس میں پھنسایا ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ خبر ہمارے لیے باالخصوص ان کی علیل والدہ کے لیے حیران کن تھی۔ ان کی والدہ نے کہاکہ ان کا بیٹاپولیو کی وجہ سے اکیلے آجا بھی نہیں سکتا۔