یمن سے حوثی قیادت کے فرار کے لیے ایرانی منصوبے کی اطلاعات

حوثی رہ نماؤں نے بعض اثاثوں کو پیش کیا جو انہوں نے فروخت کے لیے ہتھیا لیے تھے،انٹیلی جنس ذرائع

اتوار مئی 15:40

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) یمن بعض ذرائع نے باور کرایا ہے کہ صعدہ صوبے میں حوثیوں کے گڑھ میں موجود سینئر قیادت نے فرار کے انتظامات شروع کر دئیے ہیں۔ یہ پیش رفت باغیوں کے گرد گھیرا تنگ ہونے اور مختلف محاذوں پر پے درپے شکستوں کے بعد سامنے آیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صعدہ میں مقامی اور انٹیلی جنس ذرائع نے واضح کیا کہ حوثی رہ نماؤں نے بعض اثاثوں کو پیش کیا جو انہوں نے فروخت کے لیے ہتھیا لیے تھے۔

بعض دیگر اثاثوں کی ملکیت غیر معروف تجارتی قبائلی شخصیات کے نام منتقل کر دی گئی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا نے مغربی ساحل کے محاذ سے اپنے اکثر جنجگوؤں کو واپس بلا لیا ہے تا کہ باغیوں کے مرکزی گڑھ کا دفاع کیا جا سکے۔ اس دوران حوثی رہ نماؤں کو فرار کے لیے وقت بھی مل جائے گا۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق حوثی قیادت کو یقین ہو چلا ہے کہ ان کا اختتام قریب آ چکا ہے کیوں کہ سرکاری فوج کی بڑے پیمانے پر پیش قدمی کو یقنی بنایا جا رہا ہے۔

یمنی فوج آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کی مدد سے الحدیدہ شہر اور اس ک یبندرگاہ کی جانب آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق بعض حوثی رہ نما یمنی حکومت سے رابطے کی کوششیں کر رہے ہیں تا کہ اپنی پوزیشن کو محفوظ بنا سکیں۔ عوامی مزاحمتی تحریک کے حوالے سے حوثیوں کی صفوں میں افراتفری اور اندیشے پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ امر حوثیوں کے انقلاب کے جلد سقوط اور یمن میں ایران کے منصوبے کے دفن ہو جانے کے سلسلے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ عنوان :