گوررننس آرڈر 2018 گلگت بلتستان کیلئے ایک اہم پیشرفت ہے ، سیاسی و سماجی راہنماوں کا اظہار خیال

اتوار مئی 16:00

گلگت۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) گلگت بلتستان کی بین لاقوامی حیثیت اور مسئلہ کشمیر کے تناظر میں علاقے کے حوالے سے حالیہ گوررننس آرڈر 2018 ایک اہم پیشرفت ہے .ڈرافت تیار کرنے والے اور اس پے کام کرنے والے تمام لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں، احتجاج کرنے والے گنے چنے لوگ ہے عوام کا اس احتجاج سے کوء تعلق نہیں ہی.

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہارمعروف سیاسی وہ سماجی راہنما اور سپریم لیڈر باشندگان چلاس حاجی عبدا لعزیز نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، انھوں نے کہا کہ مجوزہ آرڈر 2018 گلگت بلتستان کے لیے بہت ہی اہم پیشرفت ہی.ستر سالوں بعد ہم کسی نہ کسی دائرے میں آگئے ہے جو پاکستانی شہریت کے برابر ہے،معروف سیاسی شخصیت اورپاکستان مسلم لیگ کے رہنما حاجی قاسم نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیر کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کو الگ انتظامی یونٹ یا صوبہ نہیں بنایا جاسکتا ہے اسلیے گورننس آڑدر 2018 کا اجراء علاقے کیلئے بہت ہی اہم پیشرفت ہے۔