سرکاری جامعات میں دور جدید کے نئے مضامین ،شعبہ جات کو متعارف کروانے ، ان پر سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے ،ْسردار مسعود خان

یونیورسٹی انتظامیہ اعلیٰ تعلیمی معیار کو یقینی بنائیں اور طلبہ کو رہائشی سہولتوں کے ساتھ ساتھ فیکلٹی اور مینجمنٹ کی کما حقہ دستیابی کو بھی یقینی بنایا جائے ،ْصدر آزاد کشمیر

اتوار مئی 16:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے آزادکشمیر کی سرکاری جامعات میںکوالٹی ایجوکیشن کو یقینی بناتے ہوئے دور جدید کے نئے مضامین و شعبہ جات کو متعارف کروانے اور ان پر سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ صدر آزادکشمیر نے ان خیالات کا اظہار میر پور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سینٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر میرپور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمان نے جامعہ کی کارکردگی اور مختلف سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلاً رپورٹ پیش کی۔ وائس چانسلر نے کہا کہ حالیہ سالوں میں میرپور یونیورسٹی نے اپنی نصابی اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں بے پناہ ترقی کی ہے ۔ یونیورسٹی میں اس وقت چھیاسٹھ 66پی ایچ ڈی ڈاکٹر موجود ہیں جو مختلف شعبوں میں تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اور انہوں نے کہا کہ جامعہ کے اندر گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 336ریسرچ پیپر تیار کیے جو بین الاقوامی شہرت کے مختلف جریدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ اور انہیں انٹرنیشنل اور نیشنل کانفرنسز میں پڑھا بھی جا چکا ہے ۔ افرادی قوت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ جامعات کو مختلف جابز سے متعلقہ جاب فیئرز کا اہتمام کرنا چاہیے اور اس سے متعلق صنعت کاروں کو بھی بلانا چاہیے تاکہ وہ میلوں میں ٹیلنٹ کو ڈھونڈیں اور جامعات کے فارغ التحصیل اور پڑھنے والے طلبا و طالبات کو اپنی اپنی آرگنائزیشن میں روزگار کے مواقع فراہم کر سکیں۔

وائس چانسلر میر پوریونیورسٹی نے سینٹ کے اجلاس کو اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ انہو ں نے یونیورسٹی میں ایک گریجویٹ پلیسمنٹ بیورو قائم کر رکھا ہے جس نے گزشتہ سال کے دوران تقریباً پانچ سو طلبہ کو انٹرن شپ فراہم کیں اور ستر طلبہ کو روزگار فراہم کروایا۔ صدر نے یونیورسٹیز کی ان کاوشوں کو سراہا جو کمیونٹی کی خدمت کے سلسلے میں مختلف پروگراموں کے ذریعے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسٹ نے بالخصوص میر پور کوٹلی روڈ پر منگلا ڈیم کے سلوپ فیلیئر کی نشاندہی کی اور اس سلسلے میں اپنی تکنیکی معاونت اور مشاورت بھی سول انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے مہیا کی۔ اسی طرح میر پور شہر کے قرب و جوار میں دیہاتی علاقوں ٹیلی میڈیسن کے سروسز کو مہیا کرنے میں بھی اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ صدر نے آزادکشمیر کی جامعات کو قومی اور علاقائی سطح پر مقابلہ کرنے کے لئے ان میں تقرریوں اور داخلوں کے سلسلے میں شفافیت اور میرٹ کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر آزادجموں وکشمیر جو کہ میر پور یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں نے مسٹ کے اندر بائیو ٹیکنالوجی ، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی،، مصنوعی ذہانت ا ور نینو ٹیکنالوجی جیسے جدید مضامین اور شعبہ جات کے اجراء کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی انتظامیہ کو اس بات پر بھی مبارکباد دی کہ انہوں نے فیڈرل گورنمنٹ کی طرف سے دی جانے والی مصنوعی ذہانت کی 13لیبارٹریز میں سے ایک لیبارٹری قائم کرنے کی منظوری حاصل کی۔

اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ مسٹ یونیورسٹی کا پلندری سب کیمپس باضابطہ طور پر منظور ہو چکا ہے اور جلد ہی وہاں کلاسز کا اجراء سر دست پوسٹ گریجویٹ کالج پلندری میں ہو جائے گا۔ وائس چانسلر نے یہ بھی بتایا کہ اس سب کیمپس کے طلبہ کی رہائش کے لئے ہاسٹلز کی مزید تزئین و آرائش کی جائے گی اور اس پر اٹھنے والے اخراجات ہائیر ایجوکیشن کے امریلہ پراجیکٹ کے ذریعے حاصل کئے جائیں گے۔

صدر نے اس موقع پر یہ بھی ہدایات جاری کیں کہ مذکورہ پلندری یونیورسٹی کے سب کیمپس کی تعمیر کے سلسلے میں ضروری کارروائی کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ سب کیمپس کے لئے 523کنال زمیں الاٹ کی جا چکی ہے ۔ صدر نے یونیورسٹی کی انتظامیہ سے کہا کہ وہ اعلیٰ تعلیمی معیار کو یقینی بنائیں اور طلبہ کو رہائشی سہولتوں کے ساتھ ساتھ فیکلٹی اور مینجمنٹ کی کما حقہ دستیابی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

سینٹ کے اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ آمین قادر وائس چانسلر فاطمہ جناح وویمن یونیورسٹی راوالپنڈی، ڈاکٹر محمد خان ، مسٹر محمد زاہد خان ، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن آزاد حکومت، انجینئر ندیم اشرف ، جنرل منیجر نیسپاک، ہائیر ایجوکیشن کے نمائندہ اور دیگر ممبران سینٹ نے بھی شرکت کی۔