پنجاب حکومت کا تین لاکھ نرسز کی کمی کو پورا کرنے کا عزم

اتوار مئی 16:30

لاہور۔27 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) پنجاب پبلک ہیلتھ ایجنسی، پرائمری و سیکنڈری ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ پنجاب کے زیرِ اہتمام ہیلتھ پالیسی رائونڈ ٹیبل سیریز کے سلسلے کی تیسری کڑی - ’نرسنگ اور مڈوائفری سے متعلقہ پالیسی اقدامات‘ کے عنوان سے منعقد کی گئی۔تقریب میں ہیلتھ ورک فورس کو درپیش چیلنجز اورپنجاب میں نرسنگ اور مڈوائفری ایجوکیشن اورسروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کیلئے درکار اقدامات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

110 ملین کی آبادی والے صوبہ پنجاب کو ہیلتھ ورک فورس کی شدید قلت کا سامنا ہے،بلخصوص نرسنگ اور کمیونٹی ورکرز کے شعبہ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی بدولت، ہیلتھ ورک فورس کی قلت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔اس قلت کے سدِباب کیلئے ، حکومتِ پنجاب نے پچھلے چند سالوں میں تحقیقی بنیادوں پر متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں سنٹرل انڈکشن پالیسی، لوکم پالیسی برائے بیرونِ ملک پاکستانی نژاد ڈاکٹر اور ملازمت کیلئے عمر کی حد میں چھوٹ سے متعلقہ پالیسی کا شمار ہے۔

(جاری ہے)

پچھلے دو سالوں میں صوبہ بھر میں ، نرسنگ پوسٹس میں46 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔۔پنجاب میں اس وقت 14نرسنگ کالجز ، 55نرسنگ سکول، 12پبلک ہیلتھ نرسنگ سکول، 03 مڈوائفری سکول اور 19کمیونٹی مڈوائف ٹریننگ سکول ہیں جہاں پر سالانہ 5125 نرسز اور لیڈی ہیلتھ ورکرز پاس آئوٹ ہو رہی ہیں۔۔پاکستان نرسنگ کونسل کے مطابق اس وقت صوبہ بھر میں 64,846نرسز رجسٹرڈ ہیں جبکہ صوبہ کی آبادی کو مدِنظر رکھتے ہوئے 314697مزید نرسز اور مڈوائف کی ضرورت ہے۔

شرکاء تقریب کی جانب سے کئی پالیسی آپشنر، انکی افادیت اور نقصانات پر تفصیلی بحث کی گئی۔موقع پر موجود ڈاکٹر شبنم سرفراز ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ،،پنجاب پبلک ہیلتھ ایجنسی نے کہا کہ تقریب کے شرکاء کی جانب سے مرتب کی گئیں سفارشات اگلے پانچ سالوں کیلئے ہیلتھ ورک فورس سے متعلقہ پالیسی اقدامات کیلئے کلیدی کردار ادا کریں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد نرسنگ اور مڈوائفری کی شدید قلت کو کم کرنا اور موجودہ ورک فورس کا بہترین استعمال ہے۔

سینئر نرسنگ فیکلٹی نے حالیہ سرکاری کوششوں کی تعریف کی کہ سرکاری شعبے میں ہسپتالوں میں نرسنگ کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔شرکاء کی جانب سے نمایاں اہم چیلینجز میں سروس سٹرکچر کی کمزوری، تعلیم کی منصوبہ بندی میں فرق اور افرادی قوت کی کمی تھے۔ماہرین کی جانب سے اسپیشلائزیشن میں کم ماڈیولز کا تعارف بھی تجویز کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل نرسنگ ، کنٹرولر نرسنگ امتحانی بورڈ پنجاب کی جانب سے اسپیشیلٹی پروگرامز کو تخلیق کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

شرکاء نے ہر میڈیکل کالج کے ساتھ نرسنگ کالج کھولنے پر بھی زور دیا۔رائو نڈ ٹیبل کے شرکاء میں ڈائریکٹر جنرل نرسنگ ، کنٹرولر نرسنگ امتحانی بورڈ پنجاب،، اسسٹنٹ ڈائریکٹر نرسنگ ایجوکیشن پنجاب،، ڈائریکٹر نرسنگ فاطمہ میموریل ہسپتال، پرنسپل نرسنگ سکول چلڈرن ہسپتال لاہور،، پروگرام کو ارڈینیٹر ایم ایس سی نرسنگ پروگرام یوایچ ایس لاہور،،پریذیڈنٹ مڈوائفری ایسوسی ایشن پنجاب،، سائدہ وحید FMHکالج آف نرسنگ، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرڈیپارٹمنٹ، اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور سرکاری اور غیرسرکاری یونیورسٹی اور ہسپتالوں سے سینیئر نرسنگ فیکلٹی شامل تھے۔

پنجاب پبلک ہیلتھ ایجنسی، حکومتِ پنجاب کی جانب سے پبلک ہیلتھ سے متعلق قائم کردہ تکنیکی اور سائنسی نوعیت کا ادارہ ہے۔اس ادارے کے قیام کا مقصدپبلک ہیلتھ کیلئے کام کرنا ہے۔علاوہ ازیں یہ ادارہ صوبائی، قومی اور عالمی سطح پر پبلک ہیلتھ سے متعلقہ کیے گئے معا ہدوںکو بروئے کار لانے کے لئے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایجنسی بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کیلئے کلیدی کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔