پشتو افسانوں کے اردوترجمہ پرمبنی کتاب ’’بانجھ‘‘ کے نام سے شائع ہوگئی

پشتوافسانوں کا اردوزبان میں ترجمہ نوجوان صحافی، شاعر اورادیب راشدخٹک نے کیا

اتوار مئی 16:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) پشتو زبان کے ادیب اورمصنف عبدالوکیل سولہ مل شنواری کے پشتو افسانوں کے اردوترجمہ پرمبنی کتاب ’’بانجھ‘‘ کے نام سے شائع ہوگئی۔عبدالوکیل سولہ مل شنواری لندن میں مقیم ہیں اوراب تک کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کے پشتوافسانوں کا اردوزبان میں ترجمہ نوجوان صحافی، شاعر اورادیب راشدخٹک نے کیا ہے۔

راشد خٹک اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگریزی زبان کے اخبارسے وابستہ ہے اورعملی صحافت کے ساتھ ساتھ ادب، شاعری اورترجمہ کے شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کالوہا منوارہے ہیں۔’’بانجھ‘‘ سے پہلے پشتوزبان کے مشہورادیب سعدالدین شپون کے ناول کا اردوترجمہ ’’یاران غار‘‘ کے نام سے شائع کرچکے ہیں جنہیں ادبی حلقوں میں بہت پسند کیا گیا۔

(جاری ہے)

وہ روسی ادیب میکسم گورکی کے بیس افسانوں کا پشتوترجمہ ’’غچ‘‘ کے نام سے چھاپ چکے ہیں۔ان کی پشتوشاعری کے دومجموعے ’’ڈیوے‘‘ اور ’’سوژوندہ مزل‘‘ بھی منظرعام پر آچکے ہیں، اس کے علاوہ وہ وکیل سولہ مل شنواری ہی کے بعض دوسرے افسانوں کو اردو زبان میں ’’پچاس ملین‘‘ اورانگریزی میں ’’Fifty Million‘‘ کے نام سے ترجمہ کرچکے ہیں۔راشد خٹک نے برازیل کے عالمی شہرت یافتہ ادیب اورناول نگار پائولو کوہلیو کے ناول ’’الکیمیسٹ‘‘ کا پشتومیں ’’کیمیاء گر‘‘ کے نام سے ترجمہ شائع کرچکے ہیں۔

آج کل وہ اپنے افسانوں اورناول کی اشاعت میں مصروف ہیں۔اردو زبان کی مشہورادیبہ ، مصنفہ اورکالم نگار کشورناہید نے ’’بانجھ‘‘ کا پیش لفظ تحریرکیاہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ ’’یہ کہانیاں بیانیہ کی اندازمیں لکھی گئی ہے، ہرکہانی کی آغوش میں عورت کی کسمپرسی کی ایک الگ داستان ہے۔ہرکہانی کی آغوش میں عورت کو کاغذی پیرہن کی وہ گڑیا سمجھاجاتا ہے جس کی ضرورت اوراستعمال ہے تو صرف رات کو، اوروہ بھی مردانگی کا ہنردکھانے، آزمانے اورخودکویہ باورکرانے کیلئے ہے کہ جوانی کے جذبات صرف مرد کی جاگیرہوتے ہیں۔

‘‘ محترمہ کشورناہید مزید لکھتی ہے کہ ’’ عبدالوکیل نے ایک باشعور اورذہین مرد ہوتے ہوئے ان سماجی مغلظات کو اسقدرسادگی اورمختصرکہانیوں کے ذریعے بیان کیاہے کہ سماجیات کی ضخیم کتابیں بھی اس کے سامنے ہیچ ہیں۔‘‘۔کتاب کے مترجم راشد خٹک نے اے پی پی کو بتایا کہ زیرنظرکتاب میں وکیل شنواری نے صرف ایک موضوع یعنی عورت ہی پرلکھے ہوئے افسانوں کو جمع کیاہے، ایک ہی موضوع پر کئی افسانے لکھنا کافی مشکل کام ہے خصوصاً اس صورت میں یہ اوربھی مشکل ثابت ہواہوگا کیونکہ افسانہ نگار خود عورت نہیں بلکہ مرد ہے اوران کیلئے عورت کے جذبات اوراحساسات کومکمل طورپرسمجھنا ایک دقت طلب امر ہوگا۔

راشدخٹک نے بتایا کہ وکیل سولہ مل شنواری کے بعض افسانے بغاوت کے علم بردار نظرآتے ہیں اوربعض جگہوں پر ان کا انداز بہت ہی کھلا ڈلا نظرآتاہے حالانکہ پیغام ڈھکے چھپے الفاظ اوراستعاروں کے ذریعے دیا جاسکتاتھا لیکن شائد مصنف تخیل کیلئے جگہ چھوڑنے کی بجائے قاری کو سب کچھ بتادیناضروری سمجھتے ہیں اسی انداز کی وجہ سے بعض افسانے حقیقی زندگی کے واقعات دکھائی دیتے ہیں۔کتاب عکاس پبلی کیشنزاسلام آباد اورروحانی آرٹ پریس اسلام آباد نے شائع کی ہے اوراس کی قیمت 200روپے ہے۔