انگریز کا کالا قانون ہمیشہ کیلئے ختم

خیبر پختونخوا اسمبلی میں فاٹا انضمام بل منظور

Fahad Shabbir فہد شبیر اتوار مئی 18:07

انگریز کا کالا قانون ہمیشہ کیلئے ختم
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27مئی۔2018ء) فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کیلئے آج بڑا دن، ترمیمی بل کو اکثریت سے منظور کر لیا گیا، 85 ارکان کی حمایت جبکہ چھ نے مخالفت کی۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں فاٹا انضمام بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔ بل کی منظوری کے لیے 83 ارکان کی حمایت لازمی تھی۔ 85 اراکین نے فاٹا بل کی حمایت کی جبکہ 6 نے مخالفت کی۔

صوبائی اسمبلی میں فاٹا انضمام بل وزیر قانون امتیاز شاہد نے پیش کیا، جس پر جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے ((فاٹا)) اور صوبائی زیر انتظام قبائلی علاقے (پاٹا)، دونوں ہی دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔ عنایت اللہ نے مطالبہ کیا کہ آئندہ 10 سال کے لیے فاٹا اور پاٹا کو ٹیکس سے چھوٹ دی جائے جبکہ نظام شریعہ کو پاٹا میں دوبارہ لاگو کیا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ پاٹا کو ایک سو ارب روپے کا پیکج دیا جانا چاہیے تاکہ اس علاقے کو بھی پسماندگی سے نکالنا جاسکے۔ علاوہ ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے پارلیمانی لیڈر سید محمد علی شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈھائی سال جے یو آئی (ف) کی وجہ سے فاٹا انضمام میں تاخیر ہوئی، اگر ڈھائی سال جے یو آئی نے شریعت کے لیے کچھ کیا ہوتا تو پورے ملک میں شریعت نافذ ہوچکی ہوتی۔

اس موقع پر جے یو آئی کے ارکان صوبائی اسمبلی نے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کے خلاف نعرے لگائے جبکہ جے یو آئی کے مفتی سید جانان اور سید محمد علی شاہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی ((اے این پی)) کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور فاٹا کے درمیان لکیر قدرتی نہیں بلکہ کھینچی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا ملک کا حصہ تھا اس لیے پاکستان میں موجود پشتون قوم کو قومی دھارے میں لائیں گے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ پشتون قوم کو ایک پلیٹ فارم ہر لانا عوامی نیشنل پارٹی کا حدف ہے۔ سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ اگلے مرحلے میں بلوچستان کے پشتون قوم کو قومی دھارے میں لائیں گے۔ ادھر صوبائی اسمبلی میں ناراض اراکین نے ہنگامہ آرائی کی، اس موقع پر رکن اسمبلی قربان علی خان نے کہا کہ مجھے بھی سن لیا جائے، آج سچ اور راز کی باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔

اس موقع پر ہارس ٹریڈنگ کے الزام میں پاکستان تحریک انصاف ((پی ٹی آئی)) سے نکالے گئے اراکین اسمبلی نے بھی ہنگامہ آرائی کی جبکہ خواتین اراکین نے بھی احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ارکان صوبائی اسمبلی ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگاتے رہے اور اس موقع پر اسپیکر ایوان کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔