حکومت سند ھ کا گھوسٹ اسکول بند کرنے کا ایک خوش آئند فیصلہ

اسکول کے خالی ہونے کا سب سے زیادہ واویلہ مچانے والے گھوسٹ اساتذہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں

اتوار مئی 18:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) فیڈرل بی ایریا بلاک 13 کے علاقہ مکین اورمحلہ کمیٹیوں کے سینئر عہدیداران ڈاکٹرطارق رحیم نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سیکریٹری ایجوکیشن ڈاکٹر اقبال درانی کی جانب سے گھوسٹ تعلیمی ادارے کی بندش کے فیصلے کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ فیڈرل بی ائیریا بلاک 13 میں موجود گھوسٹ میٹروپولیٹن اسکول کوبھی فوری طورپربند کیا جائے ۔

علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ سے مطالبہ کیا کہ فیڈرل بی ائیریا بلاک 13 میں موجود گھوسٹ اسکول میٹروپولیٹن کے پرائمری سیکشن میں 10سے 15بچے زیر تعلیم تھے جبکہ ٹیچرز کی تعدار14ہے اور ایک چوکیدار ہے۔ علاقہ مکینوں نے کہا کہ فیڈرل بی ائیریا بلاک تیرہ کے میٹروپولیٹن اسکول میں سیکنڈری سیکشن میں 7بچے زیر تعلیم تھے اور ٹیچرز کی تعداد 14، ایک کلرک، ایک لیب اسسٹنٹ، ایک چوکیدار، ایک خاکروب ہے۔

(جاری ہے)

اس اسکول میں زیادہ تر غریب کچی آبادی کے بچے پڑھتے تھے جنکی حاضری بھی نہ ہونے کے برابر تھی جنہیں دیگر اسکول میں شفٹ کیاجاچکا ہے لیکن اس اسکول کے خالی ہونے کا سب سے زیادہ واویلہ مچانے والے گھوسٹ اساتذہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں جو کہ حکومت سندھ کے خزانے پر اضافی بوجھ ہے۔ فیڈرل بی ایریا بلاک تیرہ کے علاقہ مکینوں نے گزشتہ ہفتے چند مقامی اخبارات میں میٹروپولیٹن اسکو ل بلاک تیرہ کے حوالے سے جو من گھڑت خبرجس کے مطابق لینڈ مافیا اسکول کی بندش چاہتا ہے کہ سخت ترین تردیدکرتے ہوئے کہا کہ در حقیقت ایک گمراہ کن پروپیگنڈ ا گھوسٹ اساتذہ کی جانب سے کیا جارہا ہے جسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ محکمہ تعلیم سندھ فیڈرل بی ائیریا بلاک تیرہ میں موجود میٹروپولیٹن اسکول 1972سے چلارہا ہے کیونکہ یہ جگہ کرایہ پر حاصل کی گئی تھی۔

اس اسکو ل کی عمارت جو کہ 1972سے محکمہ تعلیم سندھ کے پاس ہے انتہائی مخدوش حالت میں ہے جب سے یہ عمارت محکمہ تعلیم کے پاس ہے محکمہ تعلیم نے اس عمارت کی مرمت اور دیکھ بھال پر آج تک کوئی خرچہ نہیں کیا ۔یہ عمارت55سال پرانی ہے جو کہ مناسب دیکھ بھال اور مرمت نہ ہونے کی وجہ سے اب انتہائی مخدوش حالت کو پہنچ چکی ہے۔ اس عمارت کی در و دیوار ، چھتیں انتہائی بد تر حالت میں ہیں اور پہلی منزل کی چھتیں جو کہ ٹین کی ہیں زنگ لگنے کی وجہ سے مکمل طور پرتباہ ہو گئی ہیں۔

اسکو ل کے کمروں میں نہ کھڑکی موجود ہے اور نہ دروازے۔ جسکی وجہ سے امکان ہے کہ یہ عمارت کسی بھی وقت زمین بوس ہوسکتی ہے اور کسی بھی وقت کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سیکریٹری ایجوکیشن ڈاکٹر اقبال درانی نے اس اسکول کے بچوں اور ٹیچرز کو قریبی سرکاری اسکول میںمنتقل کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیںکیوں کہ وہاں ان بچوں اور ٹیجرز کے لئے کا فی گنجائش موجود ہے اور میٹروپولیٹن اسکول کی عمارت کو اسکے حقیقی مالک کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

میٹروپولیٹن اسکول جو کہ ایک کرایہ کی عمارت پر واقع ہے جس کا محکمہ تعلیم نے 20سال کا کرایہ بھی ادا نہیں کیا ہے۔ جس کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نیشنلائز کردیا گیا تھا ۔ جب بھٹو کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو پھر جنرل ضیاء الحق کے 1972کے مارشل لاء کے دور میں تمام اسکول جو کہ نیشنلائز ہوئے تھے جو کہ بعد میں قانون سازی کرکے ڈی نیشنلائز کر دیئے گئے تھے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلے کے مطابق یہ اسکول نیشنلائز ہوئے تھے نہ کے اسکول کی پراپرٹی کیوں اسکول کی عمارت کرائے پر حاصل کی گئی تھی۔ یہ اسکول بھی ان اسکولوں میں سے ایک ہے ۔