حکومت نے ’آئی ایس آئی کو فیض آباد دھرنا ختم کرانے کیلئے اختیارات دیئے ،ْوزارت دفاع کی رپورٹ

سیاسی قیادت اور دھرنا قیادت کے درمیان کئی مذاکرات کے دور کرائے گئے جو ناکام ہوئے مذاکرات کی ناکامی کی وجہ حکومت کی جانب سے وزیر قانون کے استعفے کے معاملے پر سخت موقف تھا ،ْرپورٹ

اتوار مئی 18:50

حکومت نے ’آئی ایس آئی کو فیض آباد دھرنا ختم کرانے کیلئے اختیارات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) فیض آباد دھرنے سے متعلق وزارت دفاع کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آفس میں طویل اجلاس کے بعد انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو دھرنا ختم کرانے کیلئے مذاکرات کا مکمل اختیار دیا گیا تھا۔اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں تحریک لبیک پاکستان سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے دھرنے سے متعلق نجی ٹی وی کو حاصل ہونے والی وزارت دفاع کی رپورٹ کے مطابق دھرنے کے پیچھے آئی ایس آئی کے ملوث ہونے سے متعلق غلط فہمیاں پیدا کی گئیں، حقیقت میں معاملے کے پرامن حل کیلئے آئی ایس آئی نے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سیاسی قیادت اور دھرنا قیادت کے درمیان کئی مذاکرات کے دور کرائے گئے جو ناکام ہوئے، مذاکرات کی ناکامی کی وجہ حکومت کی جانب سے وزیر قانون کے استعفے کے معاملے پر سخت موقف تھا۔

(جاری ہے)

وزارت دفاع کی رپورٹ میں کہا گیا کہ آپریشن کی ناکامی کے بعد دھرنا قائدین کے انتہائی جذبات کے باوجود آئی ایس آئی نے انہیں مذاکرات کیلئے راضی کیا، ملک بھر سے حمایت ملنے کے بعد دھرنا قائدین پوری حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی ایس آئی کی جانب سے دھرنا قائدین کو اپنے اصل مطالبات تک محدود رہنے پر راضی کیا گیا جبکہ 25 نومبر کے پولیس آپریشن کی تحقیقات سے متعلق دھرنا قائدین کا مطالبہ بھی تسلیم کیا گیا۔وزارت دفاع نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دھرنا قائدین کے عمل اور تقاریر سے متعلق انہیں بلا کر وضاحت لی جاسکتی ہے، الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد سیاسی رہنماؤں کی بیان بازی نے معاملے کو مزید کشیدہ کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مظاہرین کے خلاف آپریشن اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے درمیان موثر کوآرڈینیشن نہ ہونے کے باعث ناکام ہوا، دھرنے کو ختم کرانے کیلئے سیاسی پلیٹ فارم کے استعمال کی آئی ایس آئی کی سفارشات کے باوجود دھرنا مظاہرین کے خلاف آپریشن کیا گیا۔وزارت دفاع نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مظاہرین کو فیض آباد پل سے ہٹانے کے لیے کمزور پلان بنایا گیا جس پر عملدرآمد بھی ٹھیک طرح سے نہیں کیا گیا، قریبی مدارس سے لوگوں کو فیض آباد کی جانب بڑھنے سے روکا نہیں جاسکا جبکہ آپریشن کے دوران آنسو گیس کا بہت زیادہ استعمال کیا گیا جس سے سیکیورٹی اہلکار خود متاثر ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ دیر تک ڈیوٹی کی وجہ پولیس اہلکار تھک چکے تھے اور ان کا مورال بھی پست ہوگیا تھا جبکہ دھرنا قائدین کی جانب سے تقریروں کے ذریعے پولیس اہلکاروں کے مذہبی جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی گئی۔اس میں کہا گیا کہ آپریشن کی براہ راست میڈیا کوریج سے دھرنے کی حمایت میں ملک بھر میں لوگ متحرک ہوگئے۔واضح رہے کہ اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2017 کو دھرنا دیا۔