انٹرنیشنل ڈیسک

کشمیریوں کیخلاف بھار ت کا ایک اور اوچھا ہتھکنڈا آن لائن رقم ادائیگی کمپنی سے حکومت مخالف کشمیری مظاہرین کی معلومات لینے کا انکشاف تفصیلات مودی کے احکامات پر نئی دلی میں وزیر اعظم ہاؤس کو فراہم کی گئیں،سینئر نائب صدر کمپنی اجے شیکھر کا اعتراف وڈیو میں دعوے غلط کئے گئے،حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں،صارفین کا ڈیٹا کسی کیساتھ شیئر نہیں کیا گیا،کوبرا کے بیان پر کمپنی کا ردعمل

اتوار مئی 20:10

سری نگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) مقبوضہ وادی کی مظلوم عوام کیخلاف بھار ت کا ایک اور اوچھا ہتھکنڈا سامنے آگیا ہے ،آن لائن رقم ادائیگی خدمات کمپنی سے حکومت مخالف مظاہرہ کرنے والے کشمیریوں کی معلومات لینے کا انکشاف ہوا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی تحقیقاتی ویب سائٹ کوبرا پوسٹ پورٹل نے ایک اور اسٹنگ آپریشن کے ذریعے یہ دعویٰ کیا کہ موبائل والٹ سے لے کر آن لائن ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی پے ٹی ایم نے مقبوضہ کشمیر میں حکومت مخالف مظاہرہ کرنے والے افراد کی تفصیلات نئی دلی میں وزیر اعظم ہاؤس کو فراہم کی ہیں،یہ معلومات وزیر اعظم ہاؤس کے حکم نامے کے بعد فراہم کی گئیں،وڈیو میں پے ٹی ایم کمپنی کے سینئر نائب صدر اجے شیکھر نے اعتراف کیا کہ نئی دہلی میں وزیر اعظم کے دفتر سے ان کو فون کرکے کہا گیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں پے ٹی ایم کا استعمال کرنے والوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں،تفصیلات فراہم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ پے ٹی ایم ایپ کے کون سے کشمیری صارفین مظاہرہ کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

اجے شیکھر نے کہا کہ ہماری اس موبائل ایپ میں مودی بھی ہیں،ہم ان کی کتاب 'ایگزیم واریئرکو ای فارمیٹ میں فروغ دے رہیں،وہ بھگوت گیتا کو بطور’کوئز‘ اس ایپلی کیشن کے ذریعے فروغ دیں گے کیونکہ ان کی ایپ کے ذریعے روزانہ 25سے 30ہزار لوگ کوئز مقابلے کھیلتے ہیں،میرے ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس سے قریبی رابطے ہیں،یہ میرے خون میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں آر ایس ایس میں بہت سے لوگوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔دوسری جانب کوبرا کے بیان کے ردعمل پر کمپنی کا کہنا تھا کہ وڈیو میں غلط دعوے کئے گئے اور اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں،صارفین کے ڈیٹا کو کسی کیساتھ یہاں تک کہ حکومت یا کمپنی یا کسی ملک کیساتھ کبھی شیئر نہیں کیا گیا۔پے ٹی ایم کے مطابق اس وقت ملک میں 23کروڑ لوگ پے ٹی ایم کا استعمال کرتے ہیں،صارفین اسکینڈل کے بعد تشویش کا شکار ہیں کہ اب آئندہ وہ اس ایپ کے حوالے سے کیا اقدام کریں ۔

کمپنی کے مطابق قانونی طور پر دی گئی درخواست کی صورت میں کسی صارف سے متعلق معلومات تحقیقاتی مقصد کے لیے فراہم کی جاسکتی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق حکمران پارٹی کو صارفین کے ڈیٹا کے حصول کا خیال شاید 2016 کے امریکی انتخابات سے آیا ہو۔امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن ٹیم نے کیمبرج اینالیٹکا فرم کی خدمات حاصل کی تھیں جس نے 8کروڑ 70لاکھ فیس بک صارفین کا ڈیٹاٹرمپ کی ٹیم سے شیئر کیا تھا۔اس ڈیٹا کی بنیاد پر ووٹرز کے رجحان کا پتا لگایا گیا تھا۔