ٹرمپ،کم کے درمیان 12 جون کو سنگاپور میں ملاقات کا امکان روشن

کم جونگ ان چاہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات 12 جون کو ہی ہو،کم جونگ جانتے ہیں کہ ٹرمپ سے ملاقات کئی دہائیوں کے تصادم کے خاتمے کا تاریخی موقع ہے،ملاقات کے دوران جنگ اور تصادم کے خاتمے کی خواہش کا اظہار کیا ہے،سربراہ جنوبی کوریا

اتوار مئی 20:10

سیئول\واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کے درمیان 12 جون کو سنگاپور میں ملاقات کا امکان ایک مرتبہ پھر روشن ہوگیا ہے،گزشتہ روز جنوبی کوریا کے صدر مون جے اٴْن نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے ملاقات کی، جس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے جنوبی کوریا کے سربراہ نے کہا کہ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر چاہتے ہیں کہ ان کی امریکی ہم منصب سے 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والی ملاقات شیڈول کے مطابق ہو،کم جونگ جانتے ہیں کہ ٹرمپ سے ملاقات کئی دہائیوں کے تصادم کے خاتمے کا تاریخی موقع ہے اور انہوں نے ملاقات کے دوران جنگ اور تصادم کے خاتمے کی خواہش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ کم جونگ ان امن اور خوشحالی کے لیے تعاون کرنا چاہتے ہیں،اگر ضرورت پڑی تو کم جونگ ان سے دوبارہ ملاقات پر اتفاق ہوا ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گزشتہ روز اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا کہ 12 جون کی سنگاپور سمٹ سے متعلق معاملات اچھے چل رہے ہیں،اگر یہ ملاقات ہوئی تو اسی روز ہوگی اور اگر ضرورت پڑی تو اسے آگے بڑھا دیا جائیگا۔

اس سے قبل 24 مئی کو وائٹ ہاؤس کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے نام لکھا گیا ایک خط جاری کیا جس میں دونوں ممالک کے سربراہ ملاقات کی منسوخی کا اعلان کیا گیا تھا۔خط میں کہا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان کے درمیان ملاقات کے لیے یہ مناسب وقت نہیں۔اپنے خط میں ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کورین رہنما کم جانگ ان کو مخاطب کر کے لکھا تھا کہ آپ اپنی جوہری صلاحیتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن ہمارے جوہری ہتھیار اتنے بڑے اور طاقتور ہیں کہ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ انہیں کبھی استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑی'۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان سربراہ ملاقات کے لیے جنوبی کوریا اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اسی سلسلے میں جنوبی کوریا کے سربراہ نے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کی تھی۔