آزادجموں کشمیر کونسل میں اصلاحات ایک تاریخی قدم ہے ،سردار مسعود خان

اتوار مئی 20:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آزادجموں کشمیر کونسل میں اصلاحات ایک تاریخی قدم ہے اور اس سے آزادکشمیر اور پاکستان کے لوگوں کے مفادات کو مزید تقویت ملے گی۔ صدر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور قوتوں کو اپنے صفوں میں مکمل اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک منصفانہ فارمولہ طے کرنا چاہیے جس سے آزادکشمیر حکومت کو مکمل انتظامی و مالی اختیارات مل سکیں اس سے پاکستان اور آزادکشمیر کے مابین تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

صدر نے کہا کہ آزادجموں کشمیر کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ آزادکشمیر کے لوگوں کا دیرینہ خواب تھا جس کی تعبیر کا اب وقت آچکا ہے۔ صدر نے کہا کہ اب جب کہ فاٹا اور گلگت بلتستان کے حوالے سے تاریخ ساز اقدامات اٹھائے گئے ہیں تو آزادکشمیر کو بھی کسی صورت پیچھے نہیں رہنا چاہیے ان تاریخی اور انقلابی اصلاحات اور تبدیلیوں کے بڑے دور س اور مثبت نتائج مرتب ہونگے۔

(جاری ہے)

صدر نے کہا کہ کونسل میں اصلاحات کرتے ہوئے دو پہلو ئوں کو خاص طور پر مد نظر رکھا گیا ہے کہ اس سے آزادکشمیر اور پاکستان کے درمیان بندھن اورمسئلہ کشمیر پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔ صدر نے کہا کہ اس کے علاوہ مقامی سطح پر بھی ان اصلاحات کے مجوزہ اثرات کا بخوبی تدارک کیا گیا ہے۔ صدر نے کہا کہ اصلاحات شدہ کونسل آزادکشمیر کی حکومت اور عوام کو مزید با اختیار بنائے گی اور وہ تحریک آزادی کشمیر کے لئے ایک صحیح بیس کیمپ کا کردار ادا کریں گے جس سے مقبوضہ کشمیر میں حق خودارایت کے حصول کے لئے کی جانے والی جدوجہد کو اخلاقی و سیاسی حمایت حاصل ہوگی۔

صدر نے کہا کہ کونسل میں مجوزہ اصلاحات ریاست کے عوام کی بہت مقبول اور دیرینہ خواہش تھی اور اس سے آزادجموں کشمیر کے لوگوں کو مزید سیاسی اور معاشی طاقت ملے گی ۔ جس کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ آزاد کشمیرکی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور صحت ، تعلیم،، آب رسانی، صنعت اور زراعت کے انفراسٹرکچر کوترجیحاً مضبوط اور مستحکم بنائیں گے ۔

صدر نے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اوروزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی کاوشوں کو سراہا۔ کہ انہوں نے بڑے جذبے ،محنت اور لگن سے ان اصلاحات کے لئے کام کیا جس کے تاریخی مثبت نتائج برآمد ہونگے ۔ صدر نے کہا کہ ایک طرف آزادکشمیر کی حکومت اور لوگوں کو مزید بااختیار بنایا جا رہا ہے ، انہیں مکمل انتظامی اور مالی خودمختاری دی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کی آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے ۔ انہیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔ ان کی سیاسی آزادی کو منجمد کیا جا رہا ہے ۔ پورے مقبوضہ کشمیر کو ایک کالونی کی حیثیت سے سلو ک کیا جا رہا ہے۔ راٹھور 05-18/--66