اسلام آباد، نیشنل پراڈکٹیوٹی آرگنائزیشن کے غیر قانونی تعینات چیف ایگزیکٹو عبدالغفار خٹک کا ایک اور کارنامہ

ادارے کی سینئرخاتون افیسر کو نظر انداز کرکے اپنے چہیتے افسران کو اگلے گریڈ میں ترقی دیدی ہے،زرائع

اتوار مئی 20:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) وزارت صنعت و پیدوار کے ذیلی ادارے نیشنل پراڈکٹیوٹی آرگنائزیشن (این پی او) کے غیر قانونی طور پر تعینات ہونے والے چیف ایگزیکٹو عبدالغفار خٹک کا ایک اور کارنامہ سامنے آگیا ہے ،موصوف نے ادارے کی سینئرخاتون افیسر کو نظر انداز کرکے اپنے چہیتے افسران کو اگلے گریڈ میں ترقی دیدی ہے،خاتون افیسر کی جانب سے ناانصافی اور حراساں کئے جانے کی شکایات کے باوجود بھی اسے تاحال کوئی انصاف نہیں ملا ہے ،موصوف سی ای او خیبر پختونخوا کے حلقے پی کی15 میں ن لیگ کی جانب سے انتخابات میں حصہ لیا تاہم اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور سابق وزیر اعظم نے اسے نوازتے ہوئے خلاف میرٹ این پی اوکا چیف ایگزیکٹو تعینات کر دیا ۔

(جاری ہے)

وزارت صنعت و پیداوار کے ذیلی ادارے نیشنل پراڈکٹیوٹی آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عبدالغفار خٹک نے ادارے کی سینئر خاتون آفیسر صدف شہباز کو نظر انداز کرکے اپنے دو چہیتے افسران تحسین اور ظفراللہ کو اگلے گریڈ میں ترقی دیدی ہے جس پر خاتون افیسر نے اپنے ساتھ ہونے والے زیادتیوں پر چیف ایگزیکٹیو کو شکایتی خط لکھا مگر اس خط کو بھی نظر انداز کردیا گیا اور حالات سے مجبور ہو کر 28فروری کو صدف شہباز نے احتجاجاٴْ استعفیٰ دیدیا اور اس میں وہ تمام وجوہات لکھی جس کی وجہ سے مجبور ہوکر اس نے استعفیٰ دیا تھا تاہم سی ای او نے اس کا استعفیٰ منظور کرنے کی بجائے خاتون کو اپنا استعفیٰ ریجنل ڈائریکٹر کے زریعے بجھوانے کی ہدایت کی اور کہاکہ استعفیٰ میں جووجوہات لکھی گئی ہیں اس کو نکال دیں بعدازاں 21مارچ کو مذکورہ خاتون نے وزارت صنعت و پیداوار میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا کیس دائر کیاجس پر ادارے کے سی ای او عبدالغفار بیگ نے اسے حراساں کرنا شروع کر دیاجس پر خاتون نے وزارت کے ایڈیشنل سیکرٹری کیپٹن (ر) اعجاز کو ایک تحریری شکایت بھی دیدی تاہم نہ تو اس کی شکایت کا کوئی نوٹس لیا گیا اور نہ ہی اس کے ساتھ ہونے والے ناانصافی کے بارے میں وزارت نے سی ای او سے جواب طلبی کی جس پر مذکورہ خاتون نے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی اور وزیر مملکت ارشد خان لغاری کو درخواست دیدی اس دوران ادارے کے سی ای او نے بغیر نوٹیفیکیشن ایک انکوائری کمیٹی ظاہر کرتے ہوئے خاتون کو قصور وار ٹہرا دیا اور اس کا استعفیٰ پرانی تاریخوں میں منظور کرتے ہوئے اپنے آپ کو الزامات سے بری الذمہ کرانے کی کوشش کی واضح رہے کہ سی ای او عبدالغفار خٹک2013میں ن لیگ کی ٹکٹ پر پی کے 15سے انتخابات میں حصہ لیا تھا جہاں پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد وزیر اعظم نے انہیں نوازتے ہوئے نیشنل پراڈکٹیوٹی آرگنائزیشن میں بطور سی ای او تعیناتی کے احکامات جاری کئے تاہم اس وقت کے سیکرٹری صنعت و پیداور عارف عظیم کے سامنے جب موصوف کی فائل پیش کی گئی تو انہوں نے اس کی تعیناتی پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے لکھا کہ موصوف اس شعبے کی اہلیت نہیں رکھتا ہے تاہم سیکرٹری کی تبدیلی کے ساتھ ہی نئے سیکرٹری نے عبدالغفار خٹک کی بطور سی ای اوتعیناتی کے احکامات جاری کر دئیے اور تعیناتی کے فوراً بعد اقربا پروری کا آغاز کرتے ہوئے اپنے قریبی دوست ایچ ایٹ کامرس کالج میں تعینات اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جمشید کو ڈیپوٹیشن پر جنرل منیجر تعینات کر دیاجبکہ اپنے بھتیجے فیصل شہزاد کو بغیر ٹیسٹ انٹریواور اشتہار اسسٹنٹ منیجر پشائور تعینات کیا گیا ذرائع کے مطابق موصوف نے اپنے ایک اور قریبی دوست گلزار حسین کو نوازنے کیلئے اسے جی حسین کے نام سے کمپنی رجسٹرڈ کرانے کے ساتھ ساتھ دو ماہ کے اندر اسے ادارے کا آڈٹ کرنے کی ذمہ داری دیدی ہے اور کمپنی کو آڈٹ کے نام پر 22لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی تاہم آڈٹ کمپنی جی حسین کی جانب سے جاری ہونے والے آڈٹ رپورٹ پر ایس ای سی پی سمیت ادارے کے بورڈ آف گورنر نے بھی اعتراضات لگا دئیے ہیں ذرائع کے مطابق سی ای او عبدالغفار بیگ نے وزارت کے ایڈیشنل سیکرٹری انچارج اسد حیائوالدین سے بھی ادارے کے معاملات چھپاتے ہوئے اب تک کے سالانہ مالی معاملات کی منظوری لے لی ہیں جو بھی خلاف قانون ہے۔

۔۔۔۔