سپریم کورٹ نے سی آئی اے سب انسپکٹرکے ظلم کے شکار شہری کی سن لی

سب انسپکٹر شفیق مرزا نے شہری شیرخان کے گھر پر دھاوا بول کر اس کی بوڑھی والدہ کی عزت و آبرو خاک میں ملا دی تھی اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا

اتوار مئی 20:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے سی آئی اے کے سب انسپکٹر کے ظلم و بربریت کے شکار شہری کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی،سب انسپکٹر شفیق مرزا نے شہری شیرخان کے گھر پر دھاوا بول کر اس کی بوڑھی والدہ کی عزت و آبرو خاک میں ملا دی تھی اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا جبکہ وفاقی پولیس کے پرانے گناہوں کی پت جھڑ ایک سب انسپکٹر کے مقدمہ کی سماعت ہونے کا امکان ہے، پولیس کی جانب سے بھتہ خوری ، بربریت ، ظلم ، تشدد ، قبضہ مافیا اور جرائم پیشہ افراد سے تعلق پر متفرق درخواستیں بھی سپریم کورٹ میں دینے کے لئے تیاریاں کرلی گئیں ہیں۔

سوہان کے شہری شیرخان نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی آئی اے پولیس کے سب انسپکٹر شفیق مرزا نے سی آئی اے کے ٹائوٹ اور نامی گرامی جرائم میں ملوث ایک شخص کی مدد کرتے ہوئے میرے گھر پر دھاوا بولا اور میری بوڑھی والدہ کے کپڑے پھاڑ دیئے گئے ، گلی میں انہیں برہنہ گھمایا پھرایا گیا جس پر انصاف مانگا تو سی آئی اے پولیس نے مجھ پر بھی تشدد کیا جس پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے کاز لسٹ میں مقدمے کو فکس کرتے ہوئے سی آئی اے پولیس کیخلاف کیس کی سماعت کل29مئی کو مقرر کردی۔

(جاری ہے)

پولیس ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس ملنے کے بعد پولیس کے کرپٹ افسران و اہلکاروں میں بھی کھلبلی مچ گئی ہے ، قبضہ مافیا ، ظالم ، جابر اور جرائم پیشہ افراد کیساتھ گٹھ جوڑ کرنے والے پولیس افسران و سٹاف شدید پریشانی میں مبتلاء ہے ۔دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان میں سی آئی اے پولیس کے خلاف دو ایسی متفرق درخواستیں بھی دائر کیے جانے کیلئے تیاری مکمل کی جاچکی ہے جس میں شواہد کیساتھ جرائم پیشہ افراد کیخلاف سی آئی اے کے تعلق ، قبضہ ، بربریت ، تشدد ، کار چوروں سے تعلقات اور منتھلی ایک کروڑ روپے سے زائد تھانہ اہلکاروں میں بھتے کے انکشاف پر درخواستیں دائر کیے جانے کا امکان ہے ۔