جو نواز شریف کو زیر کرنا چاہتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے عوامی لیڈر کو دیوار کیساتھ لگایا جا سکتا ہے نہ زندہ دیوار میں چنا جا سکتا ہے ‘ سعد رفیق

سب اداروں کی عزت ہے اور کسی کی عزت میں کمی نہیں ہونی چاہیے ،پارلیمنٹ کو بھی عزت دینی چاہیے ،ایکدوسرے کے سامنے آکر گزارہ نہیں ہوگا اداروں کو سر جوڑ کر اور کندھے سے کندھا جوڑ کر کام کرنا ہوگا، ہم نے ملک کو نفرت سے بچانا ہے ،نفرت کے شعلے بھڑکنے نہیں دینے پہلے ہی پاکستان تقسیم در تقسیم ہوا ہے ہم نے اسے اور تقسیم نہیں ہونے دینا ،مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینا پاکستان کے دفاع کو ووٹ دینا ہے رائے ونڈ، اوکاڑہ اور ساہیوال میں ریلوے اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن اورتعمیراتی کاموں کا جائزہ لینے اور افتتاح کے سلسلہ میں دور ہ کے مو قع پر تقریبات سے خطاب اورمیڈیا سے گفتگو

اتوار مئی 21:10

لاہور/اوکاڑہ /ساہیوال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ نواز شریف نے دو تہائی اکثریت بھی لی لیکن ان کے بیانیے اور موقف کی جو مقبولیت آج ملی ہے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ملی تھی ،جو نواز شریف کو زیر کرنا چاہتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ جو لیڈر شپ عوام میں سے جنم لیتی ہے جس کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں اسے دیوار کیساتھ لگایا جا سکتاہے اور نہ زندہ دیوار میں چنا جا سکتا ہے ،سب اداروں کی عزت ہے اور کسی ادارے عزت میں کمی نہیں ہونی چاہیے ،،پارلیمنٹ کو بھی عزت دینی چاہیے ،اداروں کو سر جوڑ کر اور کندھے سے کندھا جوڑ کر کام کرنا ہوگا، ایک دوسرے کے سامنے آکر گزارہ نہیں ہوگا اورپاکستان اس کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا ،ہم نے ملک کو نفرت سے بچانا ہے ہم نے ملک میں نفرت کے شعلے بھڑکنے نہیں دینے ،پہلے ہی پاکستان تقسیم در تقسیم ہوا ہے ہم نے اسے اور تقسیم نہیں ہونے دینا بلکہ اسے جوڑ کررکھنا ہے ،،مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینا پاکستان کے دفاع کو ووٹ دینا ہے ،ملک میں کوئی غدار نہیں سب محب وطن ہیں ،اسد درانی کی کتاب نہیں پڑھی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگ کتاب پڑھے بغیر ہی غداری کا تبصرہ کر رہے ہیں،جتنی چاہیں پیشیاں کرائیں فیصلہ اللہ تعالی کی ذات اور عوام نے کرنا ہے، کوئی چاہے جتنا مرضی پراپیگنڈا کرے انتخابات میں عوام کارکردگی کی بنیاد پر بہتر فیصلہ کریں گے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوںنے رائے ونڈ،، اوکاڑہ اور ساہیوال میں ریلوے اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن اورتعمیراتی کام کا جائزہ لینے اور افتتاح کے سلسلہ میں دور ہ کے مو قع پر تقریبات سے خطاب اور میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا ۔ وزیر ریلویز نے اوکاڑہ ریلوے اسٹیشن پر ریڈیمکو کے اجلاس کی صدارت بھی کی ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ نواز شریف آج ہمارے لیڈر نہیں بنے بلکہ وہ کئی دہائیوں سے ہمارے لیڈر ہیں لیکن ان کے بیانیے اور موقف کی جو مقبولیت آج دیکھی ہے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی۔

نواز شریف نے دو تہائی اکثریت بھی لی مگر ایسی مقبولیت انہیں پہلے نہیں ملی جو آج ملی ہے،اس پر سوچا جانا چاہیے اور ہر اس شخص کو سوچنا چاہیے جو یہ سوچتے ہیں کہ نواز شریف کو زیر کرنا چاہیے ،انہیںسوچنا چاہیے کہ سیاسی لیڈر شپ جو عوام میںسے جنم لیتی ہے جس کی جڑیں عوام کے اندر ہوتی ہیں اس کو نہ دیوار کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے اور نہ دیوار میںزندہ چنا جا سکتا ہے۔

۔اس ملک میں بھٹو مرحوم کا تجربہ کیا جا چکا ہے ،میں بھٹو صاحب کا ناقد تھا اور آج بھی ہوں ،کبھی بھٹو صاحب کی سیاست کی حمایت نہیں کی ،ان کا اور ان کی سیاسی جماعت کا سیاسی مخالف ہونے کے باوجود ہمیشہ یہ اعترا ف کرنے پر مجبور ہوں کہ بھٹو مرحوم کی قبر سیاست کرتی ہے ۔اگر پیپلز پارٹی کو آصف زرداری کا تحفہ نہ ملتا تو شاید آج بھی پیپلز پارٹی لوگوں پر راج کر رہی ہوتی ،بھلا ہو زرداری صاحب کا انہوںنے ہمارا کام آسان کر دیا جو کام پیپلز پارٹی کے مخالف نہیں کر سکے وہ آصف علی زرداری نے دو ڈھائی سال میں اپنے کرتوتوں اور کاموں کی وجہ سے کر کے پارٹی کو فارغ کر دیا ۔

لیکن جب سیاسی لیڈر پر جبر کیا جاتا ہے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں کام نہیں کرنے دیا جاتاتو یقین کیجیے لوگ کھلی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتے ہیں لوگ بدلہ تو نہیں لے سکتے ، اس ملک میں لوگ پتھر اور اینٹیں نہیں اٹھاتے ڈنڈے نہیںاٹھاتے لیکن دل میں بات رکھتے ہیں اور جب وقت آتا ہے جب ووٹ کی پرچی پر ٹھپے لگاتے ہیں تو وہ انہی کو ووٹ دیتے ہیں جو ان میں سے ہوتے ہیں اور جنہوں نے ان کے لئے کام کئے ہوتے ہیں۔

شاہد ہی کوئی ٹی وی چینل ہوگا جس نے حملہ نہ کیا ہواور جس نے پراپیگنڈا اور منفی باتیں نہ پھیلائی ہوںمگر جلسہ گاتو میرے ہاتھ میں ہے شام کو بیشک ان کی زبان کھلے ۔پوری رات ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے لیکن اس سے اگلے روز نواز شریف کا اس سے بڑا جلسہ ہوتا ہے ۔فیصلے ہمارے خلاف آتے ہیں لیکن جلسے ہمارے بڑے ہو جاتے ہیں۔جتنا دبائو ڈالا جائے گا جتنا جبر بڑھایا جائے گا اتنا ہی لوگوں میں اپنے لیڈر سے پیار بڑھ جاتا ہے اور وہ لیڈر کی غلطیاں بھی فراموش کر دیتے ہیں ۔

آخر ہم بھی انسان ہیں ہم سے سو غلطیاںہوتی ہیں ہم کوئی ملائکہ تو نہیں لیکن لوگ موازنہ کرتے ہیں کہ غلطیان زیادہ کی ہیں یا کام زیادہ کئے ہیں ۔اگر آپ نے کام زیادہ کیا ہے او رغلطیاں کم کی ہیں تو ووٹر ز آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔وہ آپ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں،ووٹر لوٹا نہیں ہوتا،کچھ جدی پشتی لوٹے ہوتے ہیں جو ہر بار لوٹے ہو جاتے ہیں جبکہ ووٹر جب ناراض ہو جائے تو وہ لوٹا نہیں ہوتا اگر وہ ناراض ہو جائے تو ووٹ نہیں ڈالتا بلکہ گھر بیٹھ جاتا ہے،اگر گند کریں، لوٹ مار کریں ، صرف نعر ے لگائیں کچھ کر کے نہ دکھائیں تو پھر ووٹر کہتا ہے کہ میں نے اسے ووٹ نہیں دینا اور میں اس سے بہتر آپشن تلاش کرتا ہوں۔

ہمارا ووٹر کیوں کسی اور کو ووٹ دے گا وہ انشا اللہ ہمیں ووٹ دے گااور انشا اللہ25جولائی کو ووٹ پڑیںگے اور آپ دیکھیں گے کہ آپ کی اور ہماری سوچ سے زیادہ ووٹ پڑیں گے ،،ووٹ کام کو ملتا ہے ،،ووٹ گالی کو نہیں ملے گا، ووٹ تھپڑ مارنے والوں کو نہیں ملے گا ،،ووٹ بڑھک لگانے والوں کو نہیں ملے گا ،،ووٹ ٹانگیں کھینچنے والے کو نہیں ملے گا ،،ووٹ امپائر امپائر کی چیخیں مارنے والے کو نہیں ملے گا ،،ووٹ فیصلوں کی بنیاد پر نہیں ملے گا بلکہ ووٹ صرف کام کی بنیاد پر ملے گا اور وہ کام جو زمین پر نظر آتا ہے۔

ساہیوال والے بتائو 1320میگا واٹ کا پلانٹ لگا ہے کیا یہ لگا ہے نہیں یہ جناتی رفتار کے ساتھ لگایا گیا ہے ۔ آج ریلوے اس پاور پلانٹ کو بلا تعطل ہزاروں ٹن کوئلہ فراہم کر رہا ہے ۔ یہ پلانٹ آپ کو نہیں پورے پاکستان کو بجلی دیتا ہے اس کی بجلی پنجاب کے پیٹ میں نہیں جاتی اس کی بجلی کا فائدہ پورا پاکستان اٹھاتا ہے ۔ کام وزیر اعلیٰ پنجاب نے کیا فائدہ پورے ملک کو مل رہا ہے ،کام نواز شریف نے کیا فائدہ پورے ملک کو مل رہا ہے ۔

کہتے ہیں کہ صرف لاہور شہر نے ترقی کی ہے ،،میٹرو بس بنا دی ہے ،بیوقوفوں کو یہ بتا دیں یہ ٹرانسپورٹ کا جدید کلچر ہے اگر لاہور میں شہباز شریف میٹرو نہ بناتا تو کوئی میٹرو بنا تا اس کے صرف خواب ہی دیکھے جا سکتے تھے ۔اس کے بعد راولپنڈی بنی ،پھر ملتان میں چلی ۔ آپ نے سارا پشاور کھود دیا جب کوئی کچھ نہ بنا تو سی او کو نکال دیا اوراس پر ذمہ داری ڈال دی ۔

ہماری دعا ہے کہ پشاور میں میٹرو بنے ،وہاں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنے گی اور انشا اللہ شہباز شریف وزیراعظم بنیں گے تو سب سے پہلے پشاور کی میٹرو کو مکمل کرائیں گے۔۔کراچی میں گرین بس نواز شریف نے دی ،انفراسٹراکچر بن گیا لیکن سندھ حکومت سے بسیں نہ خریدی جا سکیں ، انشا اللہ تعالیٰ مسلم لیگ (ن) کو موقع ملا تو کراچی کو ڈویلپ کریں گے ،،کراچی کا پیپلز پارٹی نے کباڑہ کر دیا ۔

عمران خان آپ نے کیا کیا ،آپ نے اب سو دن کا پروگرام دیدیا ہے لیکن لوگ پوچھتے ہیںکہ پہلے گزشتہ پانچ سالوں کا تو حساب دیدیںجو پانچ سال میں کچھ نہیں کر سکا وہ سو روز میں کیا کرے گا ۔ آپ نے پشاور اور مردان کو ماڈل بنایا ہوتا تو آج پنجاب کے لوگ سوچتے کہ وہاں کی حکومت نے ہم سے بہتر کام کیا ہے لیکن آپ نے تو کچھ کیا ہی نہیں ۔ایک نیا ہسپتال نہیں بنایا ،‘شہباز شریف دن میں تین تین ہسپتالوںکے افتتاح کر رہے ہیں ۔

یہاں کالجز ، یونیورسٹیز بنیں ،سڑکوں کے جال بچھائے گئے ۔۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہمیں پانچ سال نہیںساڑھے تین سال ملے ہیں ، یہ ساڑھے تین سال کی کارکردگی ہے ،پانچ سال ملتے اوررکاوٹیں نہ ڈالتے تو نتائج اس سے بھی زیادہ بہتر ہوتے، سی پیک میں تاخیر ہوئی یہ دھرنوںں اور نفرت کی سیاست کی وجہ سے ہوئی ہے ،یہ ان فیصلوں کی وجہ سے ہوئی جو غیر مقبول فیصلے ہیں جس سے پاکستان غیر مستحکم ہوا ہے ۔

ہم بات کرتے ہیں تو ہمیں جواب طلبی کے لئے کھڑے کر دیا جاتا ہے ۔، ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہماری عزت ہی نہیں ، ایسا نہیں ہو سکتا سب کی عزت ہے ،سب اداروں کی عزت ہے اور کسی ادارے عزت میں کمی نہیں ہونی چاہیے سب اداروں کی عزت کرنی چاہیے ،،پارلیمنٹ کو عزت دینی چاہیے ،جس کا دل جاتا ہے اسے مکا مار دیتا ہے ایسا نہیں چل سکتا ۔ سیاسی رہنمائوں کی کردار کشی کریں گے اور ان کو ہر وقت چور چور کہیں گے انہیں کام نہیں کرنے دیں گے تو پھر ملک کو کون چلائے گا ۔

ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ملک میںدودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہے ۔ اداروں کو سر جوڑ کر اور کندھے سے کندھا جوڑ کر کام کرنا ہوگا۔ وہ ادارہ پارلیمنٹ ہو، عدلیہ، افواج کا ادارہ ہو باقی سب ادارے ہوںسب کو اکٹھے کام کرنا ہوگا ،ایک دوسرے کے سامنے آکر گزارہ نہیں ہوگا پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ انتخابات آرہے ہیں ہماری کسی سے محاذ آرائی او ر جھگڑا نہیں،ہم نے مفاہمت ،شرافت تدبر ،اور کارکردگی کے نام پر ووٹ مانگنا ہے ۔

ہمیں پتہ ہے کہ ہمیں گالیاں نکالی جائی گی،جوتے اچھالے جائیںگے اور رکاوٹیں ڈالی جائیں گی لیکن ہم نے جذبات اور اشتعال میں نہیں آنا،ہمیں اشتعال میںلانے کی کوشش بھی کی جائے گی لیکن آپ نے ہم نے پر سکون انداز میں رہنا یہ ،ایسی تلخی اور نفرتوں کے بیج نہیں بونے جو کل کانٹے دار درخت بنیں ،چھوٹا سا واقعہ کسی بڑے سانحہ کو جنم نہ دے ۔ ہم نے ملک کو نفرت سے بچانا ہے ،ہم نے ملک میں نفرت کے شعلے بھڑکنے نہیں دینے ۔

پہلے ہی پاکستان تقسیم در تقسیم ہوا ہے ہم نے اسے اور تقسیم نہیں ہونے دینا بلکہ اسے جوڑ کررکھنا ہے ۔انتخابات میں نظم و ضبط او رصبر کے ساتھ آگے بڑھنا ہے اور انشا اللہ اس ملک میں آئین کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا ۔ انشا االلہ ووٹ کی عزت اور حرمت کی بات سر خرو ہو گی ۔اس ملک میں مسلم لیگ کو پاکستان کے کروڑوںووٹرز کام اور کارکردگی اورمحنت کی بنیاد پر دوبارہ منتخب کریں گے اور لوٹوں کو شکست دیں گے ۔

اچھا ہوا برے وقت میں ان لوگوں نے اصلیت دکھا دی لیکن ووٹر ان کی طبیعت صاف کریں گے۔۔مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینا پاکستان کے دفاع کو ووٹ دینا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) نظریاتی دفاع کی لائن ہے ،یہ ہو ہی نہیں سکتاکہ مسلم لیگ نظریہ پاکستان کے خلاف ہو یا پاکستان کے مفاد کے خلاف بات کرے ۔ہمیں کوئی کہتا رہے لیکن ہم نے کسی کو غدار نہیں کہنا ،ہم سب پاکستان کے بیٹے او ربیٹیاں ہیں اور وفادار ہیں اور خیر خواہ ہیں اور مل کر آگے بڑھیں گے ۔

نواز شریف کی قیادت میں شہباز شریف کو اگلا وزیر اعظم بنائیں گے اور شہباز شریف ترقیاتی کاموں کو ٹاپ گئیر لگائیں گے ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ملک میں انتخابات کی آمد آمد ہے اور سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں، دوسری جانب مخالفین نے الزامات کا سلسلہ مزید تیز کردیا ہے لیکن الزامات لگتے رہتے ہیں اور قافلے چلتے رہتے ہیں ۔مخصوص لوگ مخصوص ایجنڈے کے تحت الزامات لگاتے رہتے ہیں ، جتنی چاہے پیشیاں کرائیں فیصلہ اللہ تعالی کی ذات اور عوام نے کرنا ہے ،جتنا کوئی چاہے پراپیگنڈا کرے 25جولائی2018 کو عوام کارکردگی کی بنیاد پر بہتر فیصلہ کریں گے ۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں نے اسددرانی کی کتاب نہیں پڑھی اس لیے اس پرکوئی تبصرہ نہیں کروں گا، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگ اسد درانی کی کتاب پڑھے بغیر ہی غداری کا تبصرہ کررہے ہیں۔ ملک میں کوئی غدار نہیں سب محب وطن ہیں اور ہر کسی کو حدود میں رہتے ہوئے بات کرنے کی آزادی ہونی چاہیے،تقریروں اور تبصروں کی اجازت ہونی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ رائیونڈ ریلوے اسٹیشن کی حالت کافی خستہ تھی ،یہاں تبلیغی جماعت کا مرکز ہے ،جدید کشادہ اور ضرورت کے مطابق ریلوے اسٹیشن بنایاجارہا ہے جس کا 80فیصد کام مکمل کرلیا ہے ، ہم اس کا وزٹ کررہے ہیں افتتاح نہیں کررہے اوراس کا افتتاح ہماری حکومت کے بعد ہوگا،رائیونڈ ریلوے اسٹیشن پر کل تخمینہ 150.09ملین روپے ہے ،دودوکانوں کو گرایاگیاہے جن کو جگہیں دیں گے ،اس اسٹیشن میں کشادہ مسجد اور کینٹین بھی بنائی گئی ہے کچھ دنوں میں کام مکمل ہو جائے گا۔