جب تک انتخابات میں دولت کے کھیل کو روکا نہیں جاتا الیکشن ایکسرسائز فار نتھنگ ثابت ہونگے‘سراج الحق

18ء کے انتخابات میں دولت کے بل بوتے پرعوام کے حق انتخاب کو سلب کیا گیا اور انتخابی ضابطہ اخلاق پر عمل نہ ہوسکا تو عوام ایسے انتخابات کو قبول نہیں کرینگے ‘تقریب سے خطاب

اتوار مئی 21:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے صدر مملکت کی طرف سے الیکشن 2018ء کے لیے تاریخ کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس ضرورت پر زور دیا ہے کہ الیکشن برائے الیکشن سے ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، پورے انتخابی نظام کو یرغمال بنایا اور الیکشن نتائج کو اغواء کیاجاتا ہے اور الیکشن کمیشن ہمیشہ تماشائی بنا رہتا ہے،،الیکشن کمیشن کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے پارلیمانی کمیشن کی تجاویز کو عملی جامہ پہنانا ہوگا،جب تک انتخابات میں دولت کے کھیل کو روکا نہیں جاتا اور انتخابی اصلاحات اور ضابطہ اخلاق پر مکمل طورپر عمل درآمد نہیں کروایا جاتا الیکشن ایکسرسائز فار نتھنگ ثابت ہونگے۔

ان خیالات کا اظہارا نہوں نے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے ارکان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ انتخابی نظام نے عوام کے اعتماد کو بری طرح مجروح کیا ہے۔کرپٹ ٹولہ لوٹ کھسوٹ کی دولت کے اربوں کھربوں خرچ کرکے اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہوجاتا ہے اور دیانتدار اور محب وطن سیاسی ورکرز دولت کے اس کھیل میں بے بس ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ شفاف اور بااعتماد الیکشن کے لیے دولت کے اس کھیل کو روکنا اور انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کرناہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اگر 2018ء کے انتخابات میں دولت کے بل بوتے پرعوام کے حق انتخاب کو سلب کیا گیا اور انتخابی ضابطہ اخلاق پر عمل نہ ہوسکا تو عوام ایسے انتخابات کو قبول نہیں کریں گے اس لیے الیکشن کمیشن انتخابات سے قبل اپنے انتخابی ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اور تیار ی مکمل کرے۔

انہوںنے کہا کہ اگر شفاف اور غیر جانبدارنہ انتخابات ہوئے تو ایم ایم اے ایک بڑی قوت کے طور پر سامنے آئی گی۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نظام کی تبدیلی کے لیے کردار کے لحاظ سے مضبوط ٹیم کا ہونا ضروری ہے۔ایک منظم عوامی تحریک کے نتیجے میں ہی ظلم و جبر اور استحصال کے اس نظام سے چھٹکارہ مل سکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ رمضان المبارک شخصی کردار کی پختگی کا مہینہ ہے۔

قرآن کریم کا بلاناغہ مطالعہ اور معاملات کو درست کرنا ازحدضروری ہے۔اس لیے ارکان جماعت اسلامی اس کو اپنا معمول بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر خدمت خلق کے کامو ں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔انہوں نے کہا کہ خلق خدا کی خدمت کرکے ہی اللہ کی رضا اور خوشنودی اور اخروی کا میابی حاصل کی جاسکتی ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت کی طر ف سے سرکاری ملازمین کے لیے اعلان کردہ مراعات کو واپس لینا کسی طور پر مناسب نہیں ۔اس لیے حکومت نے سرکاری ملازمین کو جو مراعات دینے کا اعلان کیا تھا اسے پورا کرے۔