چین بی آر آئی کے تحت پاکستا ن میں سرمایہ کاری کے مزید امکانات پر غور کر رہا ہے

بی آر آئی میں شامل منصوبوں کیلئے مختلف وسائل برئوے کار لانا چاہتے ہیں ، اعلیٰ حکام سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک

اتوار مئی 21:20

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) چین بیلٹ و روڈ منصوبے (بی آر آئی)کے تحت پاکستان اور دوسرے علاقائی ممالک میں سرمایہ کاری کیلئے مزید امکانات پر غور خوض کر رہا ہے ۔یہ بات حکام نے اتوار کو یہاں بتائی ہے ۔ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک کے اعلیٰ حکامنے کہا کہ ’’کہ ہم بیلٹ و روڈ منصوبے میں شامل معیشتوں میں منصوبوں کو جاری رکھنے کیلئے مختلف مالیاتی اداروں،بین الاقوامی کمپنیوں اور رقم فراہم کرنے والے ذرائع کو برئوے کار لانے کیخواہاں ہیں سٹینڈرڈ چارٹرڈ چائنہ میں گلوبل بنکنگ کے سربراہ جین لو نے کہا کہ قومی ترقی و اصلاحات کمیشن نے واضح پیغام دیا ہے چین کو امید ہے بیلٹ و روڈ منصوبوں کے لیے باہر کی جانے والی سرمایہ کاری کو کمرشل لائزڈ کیا جائیگا۔

اور صرف چینی کمپنیوں اور ملکی پالیسی بنکوں کو شامل نہیں کیا جائیگا اور محض چین کی افرادی قوت اور رقم پر ہی انحصار نہیں کیا جائیگا۔

(جاری ہے)

ایک حالیہ میڈیا بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ ہم دوسرے مالیاتی اداروں کے ساتھ اپنے وسائل کا تبادلہ اور تعاون کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ یہ مالیاتی ادارے اپنے کلائنٹس کو بلا روک ٹوک مالیاتی خدمات فراہم کر سکیں۔

سٹینڈرڈ چارٹرڈ میں گلوبل بنکنگ ، افریقہ و مشرق وسطیٰ کے معاون سر براہ سرمد لون نے کہا کہ گذشہ 8سے 10برسوں میں سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ اور پاکستان میں چینی کمپنیوں کے داخلے کو انتہائی نمایاں طور پر دیکھا ہے اس وقت چینی کمپنیاں اور بنک علاقے کے ہر ملک میں پورے مالیاتی سلسلے بھر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب علاقے میں گرین فیلڈ صنعتیں قائم ہونا شروع ہوں گی تو وہ غالباً اپنے ملکی اداروں اور چینی بنکوں کی حمایت پر زیادہ انحصار کریں گی تاہم عام ارتقائی موڑ کے مطابق ایک مرتبہ جب کمپنی قائم ہو جائے تو سرمایہ کے اخراجات اس کے پیچھے ہوتے ہیں اور ملکی معیشت میں باقاعدہ کاروباری سرگرمیاں شروع ہو جائیں تو انہیں غالباً پھر بھی چینی بنکوں کی ضرورت محسوس ہو گی لیکن اس کے ساتھ انہوں مقامی اور بین الاقوامی بنکوں کی بھی مدد درکار ہو گی ۔