آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس 7روز جاری رہنے کے بعد غیر معینہ مُدت کیلئے ملتوی

ایوان نے فنانس ایکٹ 2018ء کی منظوری کے ساتھ ساتھ نظر ثانی میزانیہ سال2017-18 …96280000ملین روپے اور تخمینہ میزانیہ برائے مالی سال2018-19کُل تخمینہ میزانیہ 108200000 ملین روپے کی بھی متفقہ طور پر منظوری دیدی

اتوار مئی 21:20

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) حکومت آزاد جموں و کشمیر کا بجٹ اجلاس 7روز سپیکر آزاد کشمیر اسمبلی شاہ غلام قادر کی صدارت میں جاری رہنے کے بعد اتوار کی سہ پہر سے غیر معینہ مُدت کے لیے ملتوی ہو گیا۔ ایوان نے فنانس ایکٹ 2018ء کی منظوری کے ساتھ ساتھ نظر ثانی میزانیہ سال2017-18 96280000ملین روپے اور تخمینہ میزانیہ برائے مالی سال2018-19کُل تخمینہ میزانیہ 108200000 ملین روپے کی بھی متفقہ طور پر منظوری دے دی ۔

یہ بجٹ آزاد کشمیر کی مالیاتی تاریخ میں بڑا بجٹ ہے جس میں ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ امید ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر ترقی کی منازل طے کرے گا جس سے تحریک آزادی ء کشمیر پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

(جاری ہے)

حکومتی و اپوزیشن ممبران نے بجٹ اجلاس میں اپنے اپنے حلقوں کی بھرپور نمائیندگی کی اور بہتری کے لیے مثبت تجاویز بھی دیں۔

حکومتی و اپوزیشن ممبران اسمبلی نے ایوان کی کارروائی چلانے کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی کے سپیکر شاہ غلام قادر کو مبارکباد دی۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو بجٹ پر ایک ساتھ لے کر چلے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ خوش اسلوبی سے پاس ہوا ہے۔ اجلاس میں نظرثانی میزانیہ سال2017-18و تخمینہ میزانیہ برائے مالی سال 2018-19سمیت مالی سال 2005-2006تا سال 2014-15 کے دوران منظور شُدہ میزانیہ سے کیئے گئے زائد اخراجات کی بھی منظوری دے دی گئی۔ ڈپٹی سپیکر اسمبلی سردار فاروق احمد طاہر نے صدر آزاد کشمیر کا حکم نامہ پڑھ کر سُنایا اور اجلاس غیرمعینہ مُدت کے لیے مُلتوی ہو گیا۔