فاٹا اصلاحاتی بل کی منظوری کیخلاف جمعیت علماء اسلام ف کا خیبرپختونخوا اسمبلی کے باہر شدید احتجاج

پولیس جھڑپوں کے دوران 20 مظاہرین گرفتار، پولیس تصادم میں 3 اہلکاروں سمیت6افراد زخمی جے یو آئی کے کارکنان نے خیبر پختونخوا اسمبلی کی عمارت اور گیٹ پر سیاہ پرچم لہرادیے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال ، کشیدہ صورتحال کے باعث اضافی نفری طلب پولیس نے پارٹی ارکاکین کو صوبائی اسمبلی میں جانے سے روکا تو مشتعل افراد نے پتھراؤ، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ شروع کردیا

اتوار مئی 21:20

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) فاٹا اصلاحاتی بل کیخلاف جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنان کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے باہر شدید احتجاج کیا گیا ،،پولیس نے جھڑپوں کے دوران 20 مظاہرین کو گرفتار کرلیا ،،فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی مخالف جماعت جے یو آئی(ف) کے کارکنان اسمبلی اجلاس سے قبل وہاں پہنچ گئے احتجاج کے دوران مظاہرین نے خاردار تاریں اور رکاوٹیں ہٹا کر اسمبلی کے اندر جانے کی کوشش کی تو پولیس سے ہاتھا پائی بھی ہوئی،،پولیس تصادم میں 3 اہلکاروں سمیت6افراد زخمی ہوگئے، جے یو آئی (ف) کے کارکن خیبر پختونخوا اسمبلی کی عمارت پر بھی چڑھ گئے اور گیٹ پر سیاہ پرچم لہرادیے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جب کہ واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے اپوزیشن پارٹی کے ارکین کو اسمبلی میں جانے سے روکا تو مظاہرین نے پتھراؤ کردیا جس کے بعد مشتعل افراد نے پتھراؤ، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ شروع کردیا۔۔صوبائی اسمبلی کی عمارت سے متصل خیبر روڈ میدان جنگ بنا رہا جہاں مظاہرین کے پتھراؤ سے میڈیا ہاؤسز کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ،، آنسو گیس کی شلینگ اور لاٹھی چارج کیا گیا جس کے دوران ابتدائی اطلاعات کے مطابق 5 سے 6 افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے اسمبلی کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 20 مظاہرین کو گرفتار کرلیا جب کہ کشیدہ صورتحال کے باعث اضافی نفری طلب کرلی گئی۔