اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجد نواز کا چترال بازار کا معائنہ، گراں فروشوں کو بھاری جرمانے

اتوار مئی 21:20

چترال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) عوام کے شکایت پر ضلعی انتظامیہ حرکت میں آگیا، ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد علی سودھر کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجد نواز نے چترال کے محتلف بازاروں کا معائنہ کیا، اے سی چترال نے اتالیق بازار میں سبزی فروش، پھل فروش اور کریانے کے دکانوں میں جاکر ان کے ترازو چیک کئے اور زائدالمیعاد چیزوں کا بھی جائزہ لیا۔

اس موقع پر بعض دکانداروں کے ترازو غلط تھے اور گاہک کو دینے والی چیز جس پلڑے میں تولا جاتا ہے وہ بھاری تھا جس پر اے سی موقع پر ان کو جرمانہ کیا۔ اسی طرح عوام کے شکایت پر انہوںنے مرغی فروشوں اور قصائیوں کے دکانوں کا بھی معائنہ کیا۔ انہوںنے اس موقع پر عوام کو بتایا کہ مرغی تول یعنی وزن کے حساب سے لیا کرے اور حلال شدہ مرغی کی قیمت 210 روپے فی کلو لگائی گئی ہے اسی حساب سے دکاندار سے مرغی خریدا کرے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر چند صارفین نے شکایت کی کہ گورنر کاٹیج روڈ پر چند دکاندار مرغی کو بغیر وزن کے ویسے دیتے ہیں جو مہنگا پڑتا ہے اس پر اے سی چترال نے خود جاکر معائنہ کیا اور جو دکاندار عوام کو لوٹ رہے تھے ان کے دکان سیل یعنی سر بمہر کردیا اور ان کو جیل بھیج دیا۔ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے اے سی ساجد نواز نے کہا کہ انہوں نے تاجر یونین کے صدر شبیر احمد کے ہمراہ چترال کے مختلف بازاروں کا معائنہ کیا اور جو دکاندار آشیائے خوردنوش اور مرغی، گوشت وغیرہ مہنگا فروخت کر رہے تھے ان پر بھاری جرمانے لگادئے گئے جن کی مالیت پچاس ہزار روپے بنتی ہے۔

اس موقع پر انہوںنے عوام پر زور دیا کہ وہ جب مرغی خریدے تو وزن کے حساب سے یعنی تول کر لیا کرے اور جو دکاندار حلاف ورزی کرتا ہے تو وہ فوری طور پر اے سی کے نوٹس میں لایا کرے تاکہ ان دکانداروں پر جرمانہ عائد کیا جائے۔ عوام نے اے سی چترال کے اس اقدام کو نہایت سراہا اور امید ظاہر کی کہ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں اب نہ صرف مرغی اور گوشت عوام کوآسانی سے ملے گا بلکہ اس کی قیمت بھی مناسب ہوں گی اور ماضی کی طرح نہ تو ان چیزوں کو پر نہیں لگیں گے ۔

تاجر یونین چترال کے صدر شبیر احمد نے کہا کہ وہ خود بھی دکانداروں سے آکر کہتے ہیں کہ اس مقدس مہینے میں چیزوں کو نہ تو غائب کرے تاکہ مصنوعی قلعت پیدا ہوجائے اور ذحیرہ اندوزی سے بچتے ہوئے ان کی قیمتیں بھی مناسب رکھیں تاہم جو دکاندار قانون کی حلاف ورزی کرتا ہے تو انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ان کے حلاف قانونی کاروائی کرے اور ان پر جرمانہ عائد کرے۔