نوشکی ، مہنگا ئی کا جن بے قابو ،گراں فروش عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف

اتوار مئی 21:20

نوشکی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) نوشکی میں مہنگا ئی کا جن قابو ہوتا نظر نہیں آرہا ،گراں فروش عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف عمل ہیں انتظامیہ مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے اور عوام کو سستی اشیاء کی فراہمی میں کامیاب نہ ہو سکے ۔

(جاری ہے)

تفصیلات ملک بھر کی طرح نوشکی میں بھی گران فروش کی جانب سے اشیاء خوردنوش کی چیزیں من مانے داموں میں فروخت کیا جا رہا ہیں سرکاری نرخ نامے کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں اشیاء خوردنوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں غریب شہریوں کی کمر توڈ کے رکھ دی ہے غریب آدمی بکھرے اور مرغی کا گوشت کھانے کی تصور توکر سکتے ہیں مگر خرینا انکی بس سے باہر ہے آم،آڈو،تربوز ،چیکو،سیب اور دیگر پھلوں کے بارے میں عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتے نوشکی ماہ سیام میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے انام بوستان روڈ پر سستا بازار لگایا گیا جو شروع ہوتے ہی ختم ہوا صرف 5دنوں کیلئے سستا بازار لگایا گیا جس میں صرف چند چیزیںدستیاب تھی جو سستا تو نہیں تھے لیکن پھر بھی غریب وہاں سے خرید و فروخت کرتے تھے اسی طرح شہر میں قائم تمام یوٹیلٹی اسٹوز جن میں بمشکل 20فیصد چیزیں دستیاب ہے یوٹیلٹی اسٹوز میں رمضان المبارک میں سامان نہ ہونا غریب عوام کیلئے باعث پریشانی ہے ،اسسٹنٹ کمشنر کی معطلی اور ڈپٹی کمشنر کے مصروفیات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منافعہ خور خوب عوام کو لوٹ رہے ہیں پرائز کنٹرول کمیٹی کی جانب سے جاری کر دہ نرخ نامہ کو پس پشت ڈال کر دکاندار من پسند قیمتوں میں اشیاء خوردنوش کی چیزیں فروخت کی جارہی ہے مرغی گوشت 340سے 350روپے فی کلو فروخت کی جارہی ہیں انتظامیہ کی جانب سے بیکری سمیت کسی بھی اشیاء کی کوالٹی چیک کرنے تاحال کوئی چیکنگ نہیں ہوئی ہے عوام حلقوں کی جانب سے متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ مارکیٹ میں سرکاری نرخ نامہ کے مطابق ضرورت کے چیزوں کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے اور کوالٹی چیک کرنے کیلئے ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔