کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں منیجنگ ڈائریکٹر اور سنئیر افسران کے درمیان اختیارات کی جنگ شدت اختیار کرگئی

اتوار مئی 21:21

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں منیجنگ ڈائریکٹر اور سنئیر افسران کے درمیان اختیارات کی جنگ شدت اختیار کرگئی ،گریڈ20 کے افسران 19 گریڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کے ماتحت بحالت مجبوری کام کررہے ہیں،جس کی وجہ سے ادارے میں محاز آرائی کی صورتحال ہے اور شدید گرمی ماہ رمضان میں پانی کے حصول میں پریشان سے دوچار ہیں،اس بارے میں ادارے کے ذمے دار زرائع نے بتایا ہے کہ ادارے کے سنئیر افسر ڈی ایم ڈی ٹیکنیکل سروسز اسد اللہ خان اس تقرری پر سخت ناخوش ہیں اور وہ موجودہ ایم ڈی کی تقرری کو عدالت میں چیلنج کرنے کے بارے میں قانونی ماہرین سے مشاورت بھی کررہے ہیں،دوسری جانب چند روز مزید عہدے پر رہنے والے صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو نے ایم ڈی کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈی ایم ڈی اسد اللہ خان کو احکامات جاری کرنا شروع کردیے ہیں،جس پر ایم ڈی خالد محمود شیخ کو اعتراض ہے ،تاہم ایم ڈی 20 گریڈ نہ ہونے کے سبب کڑوی گولی نگل ہے ہیں،تبدیلی صورتحال کے پیش نظر ادارے کی ضروریات کے لئے لگائے جانے والے پاور پلانٹ کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑا ہے ،زرائع کے مطابق پاور پلانٹ کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ آنے والے وقتوں میں کے فور منصوبہ مکمل ہونے کے بعد پمپنگ کے لئے زیادہ بجلی درکار ہوگی ،جس پر متعلقہ وزیر ایم ڈی یا دیگر افسران کی توجہ نہیں ہے ،زرائع کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ افسران اختلافات ختم کر کے پاور پلانٹ لگانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں،تاکہ 80 میگاواٹ کا پاور پلانٹ لگاکر ادار ے کی بجلی کی طلب کو پورا کیا جاسکے اور بجلی کی بل کی مد میں کے الیکٹرک کو دئیے جانے والے کڑوروں روپے ماہانہ کی رقم کو بچایا جاسکے اور اضافی بجلی فروخت کر کے ادارے کی آمدنی کو بڑھایا جاسکے گا۔