خیبرپختونخوا اسمبلی میں وفاق فاٹا اصلاحات ترمیمی بل اکثریت رائے سے منظور

پاٹا کو 10 سال تک ٹیکسوں سے استثنیٰ دینے کی قرارداد منظور ، بلدیو کمار نے بھی اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھالیا ہم سے پاٹا کی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، عنایت اللہ فاٹا انضمام کی قانون سازی کیلئے باہر سے دباؤ ڈالا جارہا ہے، قبائلی عوام پر فیصلہ زبردستی لاگو نہ کیا جائے،اپوزیشن لیڈر ہم فاٹا کی عوم کیلئے آسانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں، کوئی بھی حکومت مالاکنڈ پر ٹیکس لگانے کی ہمت نہیں کر سکتی،مالاکنڈ کے لوگوں کو ہمیں سمجھانا ہو گا، یقین دہانی کراتا ہوں مالاکنڈ پر کوئی ٹیکس نہیں لگے گا،وزیر ِاعلیٰ خیبرپختونخوا نگراں وزیر اعلیٰ سے پیسے لینے کی بات پر ایوان میں شدید شور شرابا ، پیسے لینے کا الزام سن کر بہت افسوس ہوا،پرویز خٹک

اتوار مئی 21:21

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) خیبرپختونخوا اسمبلی میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے متعلق فاٹا اصلاحات ترمیمی بل کو اکثریت سے منظور کر لیاگیا ،اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت خیبرپختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس میں فاٹا اصلاحات بل پیش کیاگیا ،اقلیتی رکن بلدیو کمار نے اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھالیا،اقلیتی رکن بلدیو کمار بھی اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچے جن سے اسپیکر کے پی کے اسمبلی اسد قیصر نے اسمبلی رکنیت کا حلف لیا،اجلاس میں صوبائی وزیر قانون امیتاز شاہد قریشی نے فاٹا کے انضمام سے متعلق بل ایوان میں پیش کیا،،اسمبلی میں مالاکنڈ کے ایم پی ایز نے پاٹا کی حیثیت ختم کرنے کا مسئلہ اٹھا دیا، رکن اسمبلی عنایت اللہ نے کہا کہ ہم سے پاٹا کی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی،،اسمبلی میں پاٹا کو 10 سال تک ٹیکسوں سے استثنیٰ دینے کی قرارداد منظور کرلی گئی۔

(جاری ہے)

تحریک انصاف کے رکن ڈاکٹر حیدر علی نے قرارداد پیش کی جس میں مالاکنڈ میں نافذ شرعی نظام عدل کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ فاٹا کی طرح پاٹا کو بھی 100 ارب روپے کا سالانہ پیکج دیا جائے،،قرارداد میں کہا گیا کہ فاٹا کے انضمام کی مکمل حمایت کرتے ہیں، تاہم حکومت نے پاٹا کو صوبے میں ضم کرنے پر عوام سے مشاورت نہیں کی، حکومت پاٹا عوام کو خصوصی مراعات دیتے ہوئے مالاکنڈ کو ٹیکسوں میں دس سال کے لیے چھوٹ دی جائے، ایک کھرب پیکج کا اعلان کیا جائے اور بجلی میں سبسڈی دی جائے۔

اے این پی کے سردار بابک نے کہا کہ مالاکنڈ کی حیثیت کو نہ چھیڑا جائے، خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے تو مالاکنڈ کے عوام فاٹا اصلاحات کی منظوری میں سب سے آگے ہوں گے۔ اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمان نے کہا کہ فاٹا میں 15سے 16 سال سے آپریشن چل رہا ہے، قبائل مشکل ادوار سے گزرے ہیں، فاٹا انضمام کی قانون سازی کے لیے باہر سے دباؤ ڈالا جارہا ہے، قبائلی عوام پر فیصلہ زبردستی لاگو نہ کیا جائے۔

شاہ فرمان نے بھی مجوزہ بل میں پاٹا کو شامل کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بل قبائل کیلئے تھا تاکہ فاٹا کے ارکان فاٹا کیلئے قانون سازی کر سکیں، لیکن پاٹا کو ساتھ شامل کرنا گہری سازش اور بل کو روکنے کی کوشش ہے،،خیبرپختونخوا اسمبلی کا آئینی مدت پوری ہونے پر اختتامی اجلاس ہے، فاٹا اصلاحاتی بل میں پاٹا کو ختم کرنے پر مالاکنڈ کے ارکان اسمبلی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اصلاحاتی بل کی مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے،،فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا، ترمیمی بل کو اکثریت سے منظور کر لیا گیا، 85 ارکان کی حمایت جبکہ چھ نے مخالفت کی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں فاٹا انضمام بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے، بل کی منظوری کے لیے 83 ارکان کی حمایت لازمی تھی۔ 85 اراکین نے فاٹا بل کی حمایت کی جبکہ 6 نے مخالفت کی۔۔اسمبلی سے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا کہا کہ ہم فاٹا کے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں، کوئی بھی حکومت مالاکنڈ پر ٹیکس لگانے کی ہمت نہیں کر سکتی،مالاکنڈ کے لوگوں کو ہمیں سمجھانا ہو گا، یقین دہانی کراتا ہوں مالاکنڈ پر کوئی ٹیکس نہیں لگے گا۔

خیبر پختوخوا اجلاس کے د وران اے این پی کے سردار بابک نے کہا کہ نگراں وزیر اعلیٰ کا جو نام آیا ہے تو بڑے بڑے قصے آرہے ہیں، سیاست میں اب پیسہ آگیا ہے، چا ہئیے تھا کہ اپوزیشن لیڈر تمام اپوزیشن جماعتوں سے مشورہ کرتے، ہمیں تو یہ خبر ملی ہے کہ وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر نے پیسے لئے ہیں۔ نگراں وزیر اعلیٰ سے پیسے لینے کی بات پر ایوان میں شدید شور شرابا ہوا۔

وزیر اعلی پرویز خٹک نے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نگراں وزیراعلی سے پیسے لینے کا الزام سن کر بہت افسوس ہوا، سینیٹ کا معاملہ آیا تو سب سامنے آجائے کیونکہ ثبوت ہیں، کوئی چیز چھپی نہیں میں جانتا ہوں کون کون ہے۔اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمان نے کہا کہ میں نے تمام پارلیمانی جماعتوں سے رابطہ کیا اور نام مانگے تھے، افسوس ہوا سردار بابک نے سنی سنائی باتوں پر الزام لگایا، پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر شاہ فرمان نے کہا کہ ایوان میں وہ بات کی جاتی ہے جو حقیقت پر مبنی ہو، کسی کے کہنے پر آپ کیسے الزامات لگا سکتے ہیں۔

اس موقع پر ایوان میں شور شرابا دیکھنے میں آیا، اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی ایک دوسرے کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کا اراکین اسمبلی کو کہنا تھا کہ آج بہت اہم دن ہے، سب لوگ تحمل کا مظاہرہ کریں۔