سندھ حکومت کا دس سالہ دور اقتدار ،400 منصوبے تا حال نامکمل

کروڑوں کے بجٹ منظور ہونے کے باوجود محکمہ ورکس اینڈ سروس کے ڈیڑھ سو منصوبے تاحال نامکمل ،لاڑکانہ پیرا میڈیکل انسٹیٹیوشن کی2012 میں منظوری کے باوجود کام تاحال شروع نہ ہو سکا، تعلیم،صحت،اقلیتی اموراورکھیل کے بھی درجنوں منصوبے مکمل نہ ہوسکے ، سانگھر،ٹنڈومحمدخان، ٹنڈوالہیار، گھوٹکی اورمٹیاری میں نو سال بعد بھی پبلک اسکول قائم نہ ہوسکے،صوبے کے 500 سے زائد اسکولوں کی 2008 میں ہونیوالی کوئی اپ گریڈیشن تاحال نہیں ہوئی،ٹھٹھہ کے واٹر سپلائی اسکیم کی2013 میں منظوری ہوئی لیکن تاحال پانی نہ ملا

اتوار مئی 21:21

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) سندھ حکومت کا دس سالہ دور اقتدار مکمل لیکن صوبے میں ایک دو نہیں 400 منصوبے تا حال نامکمل ،کروڑوں کے بجٹ منظور ہونے کے باوجود محکمہ ورکس اینڈ سروس کے ڈیڑھ سو منصوبے،لاڑکانہ پیرا میڈیکل انسٹیٹیوشن کی2012 میں منظوری کے باوجود کام تاحال شروع نہ ہو سکا، تعلیم،،صحت،اقلیتی اموراورکھیل کے بھی درجنوں منصوبے مکمل نہ ہوسکے ، سانگھر،ٹنڈومحمدخان، ٹنڈوالہیار، گھوٹکی اورمٹیاری میں نو سال بعد بھی پبلک اسکول قائم نہ ہوسکے۔

صوبے کے 500 سے زائد اسکولوں کو 2008 میں ہونیوالی کوئی اپ گریڈیشن تاحال نہیں ہوئی،ٹھٹھہ کے واٹر سپلائی اسکیم کی2013 میں منظوری ہوئی لیکن تاحال پانی نہ ملا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے دوبارمسلسل اقتدار ملنے کے باوجود کارکردگی دکھانے کے معاملے میں حد کردی۔

(جاری ہے)

صوبے میں ایک دو نہیں 400 منصوبے نامکمل ہیں جس میں کروڑوں کے بجٹ منظور ہونے کے باوجود محکمہ ورکس اینڈ سروس کے سڑکیں اور عمارتیں تعمیر کرنے کے ڈیڑھ سو منصوبے تاحال نا مکمل ہیں۔

لاڑکانہ پیرا میڈیکل انسٹیٹیوشن کی منظوری 2012 میں ہوئی لیکن کام تاحال نہ شروع ہوئے۔تعلیم،صحت،اقلیتی اموراورکھیل کے بھی درجنوں منصوبے مکمل نہ ہوسکے جبکہ سانگھر،ٹنڈومحمدخان، ٹنڈوالہیار، گھوٹکی اورمٹیاری میں نو سال بعد بھی پبلک اسکول قائم نہ ہوسکے۔صوبے کے 500 سے زائد اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی گئی لیکن 2008 میں ہونیوالی کوئی اپ گریڈیشن تاحال نہیں ہوئی۔چانڈکا میڈیکل کالج کیلئے 50 بیڈز والا سرجیکل آئی سی یو وارڈز بھی تاحال قائم نہ ہوسکا۔ٹھٹھہ کے واٹر سپلائی اسکیم کی2013 میں منظوری ہوئی لیکن تاحال پانی نہ ملا۔

متعلقہ عنوان :