قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ سے افغان قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف اتمر کی قیادت میں وفد کی ملاقات

ملاقات کے دوران زیادہ تر امن اور استحکام کے اس لائحہ عمل کے بارے میں غور و خوض پاکستان سیاسی ، تجارتی،قومی ، علاقائی روابط ، معیشت ، تجارت اور عوام سے عوام کی سطح پر او ر ثقافت سمیت تمام شعبوں میں تعاون کرے گا ،ْناصر جنجوعہ

اتوار مئی 21:30

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ سے افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف اتمر کی قیادت میں اعلی سطحی افغان وفد نے ملاقات کی ،ْجو وزیر اعظم کے دفتر میں ہوئی۔ افغان مشیر کے ہمراہ وزیر داخلہ وائس لمبر مک ، این ڈی ایس کے چیف معصوم ستنز کئی اور پاکستان میں افغانستا ن کے سفیر حضرت عمر زخی وال تھے۔

دونوں اطراف نے علاقائی سلامتی کی صورتحال کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تعاون سے متعلق امو رپر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے دوران زیادہ تر امن اور استحکام کے اس لائحہ عمل کے بارے میں غور و خوض کیا گیا جس پر حال ہی میں پاکستان اور افغانستان نے اتفاق کیا ہے۔قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ نے افغان قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر کاپر تپاک خیر مقدم کیا اور رمضان کے متبرک مہینہ میں پاکستان کا دورہ کرنے پر انہیں پھول پیش کئے او ر شکریہ ادا کیا۔

(جاری ہے)

قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ نے پاکستان کے افغانستان سے کئی جہتی تعاون کو مضبوط بنانے اور وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان سیاسی ، تجارتی،قومی ، علاقائی روابط ، معیشت ، تجارت اور عوام سے عوام کی سطح پر او ر ثقافت سمیت تمام شعبوں میں تعاون کرے گا۔دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں نے با مقصد اور خوشگوار بات چیت کو سراہا۔

دونوں اطراف نے ماضی کے اختلافات بھول کر مستقبل میں ایک دوسرے سے بھر پور تعاون کرنے کی مشترکہ امید کا اظہار کیا۔ دونوں اطراف نے تسلیم کیا کہ ’’ امن ‘‘ وقت کا اہم تقاضا اور دونوں ممالک کی مشترکہ ضرورت ہے جو کہ امن و استحکام کے پاک افغان لائحہ عمل پر مخلصانہ عمل درآمد کے ذریعے ہی قائم کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس معاہدہ میں ماضی کے اختلاف کو دور کرنے اور مستقبل میں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔

متعلقہ عنوان :