سندھ کے اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعلیم کے لئے مختص اور بیرونی امداد کی صورت میں ملنے والے اربوں روپے ہڑپ لئے گئے

اتوار مئی 22:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) سندھ کے اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعلیم کے لئے مختص اور بیرونی امداد کی صورت میں ملنے والے اربوں روپے خورد بر کئے جانے کا انکشاف،اینٹی کرپشن سمیت انسداد رشوت ستانی و بدوعنوانی کے ادارے حصہ دار ہونے کی وجہ سے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بھاری رقم کی خورد برد کے علاوہ معصوم بچوں کا مستقبل بھی دا پر لگا دیا گیافروغ تعلیم کے لئے کام کرنے والے سرکاری نیم سرکاری ادارے اوراین جی اوز نے لوٹ مچا رکھی ہے،میڈیا پر خبریں آنے کے باوجود فالو اپ نہ ہونے پر معاملہ دب جاتا ہے،پراسرار خاموشی کے پس پردہ محرکات،عوامل سے پردہ اٹھانے کے لئے ہر طبقہ فکر کے درد دل رکھنے والے حضرات کو اپنا کردار ادا کر کے غریب بچوں کا مستقبل بچانا ہو گا سندھ ایجوکیشن فانڈیشن کے زیر انتظام اسکولوں میں کرپشن کا انکشاف اس وقت ہوا جب چیئرمین اینٹی کرپشن نی6 اپریل 2018کو مینیجنگ ڈائریکٹر سندھ ایجوکیشن فانڈیشن کوبذریعہ لیٹر نمبرNo.so(ENQ)/E&ACE25-13/2018دو اسکولوں میں ایک کروڑ روپے کی مبینہ خور برد پرضروری کارروائی کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی،کارروائی کی ہدایت ایک ایسے شخص کی درخواست پر کی گئی جس نے صرف دو اسکولوں میں کروڑوں روپے کی خرد برد انکشاف کیابلکہ اسے شریک جرم اور عینی شاہد بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ ان اسکولوں کے تمام جعلی کاغذات اس کے سامنے تیار کئے گئے جس میں گھوسٹ طلبا ظاہر کئے گئے فنڈنگ سندھ ایجوکیشن فانڈیشن( SEF )نے کی ادارے کے ملازمین اسکولوں کو ملنے والی رقم میں برابر کے شریک تھے درخواست میں ملازمین کی بمعہ نام نشاندہی بھی کی گئی اینٹی کرپشن سے دو نوٹسز جاری ہوئے چیئر مین اینٹی کرپشن کی( SEF ) کو جاری کردہ لیٹر سے پہلے بھی اسکول مالکان کو نوٹس جاری کر کے طلب کیا گیااور اینٹی کرپشن افسران نے مبینہ طور پر معاملات طے کرلئے تھے مزید چھان بین پر پتہ چلا کہ معاملہ اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے کراچی اور اندرون سندھ کروڑوں روپے ماہانہ یا شاید اربوں بھی ہوں جاری کئے جاتے ہیںSEF افسران کرپشن میں ملوث ہیں بچوں کے داخلہ فارم و تصاویر اور ایڈریس جعلی رجسٹرGR میں جعلی اندراج اساتذہ اور مالکان کی تمام تعلیمی اسناد جعلی محکمہ کے ملوث افسران کے نام طشت ازبام لیکن کارروائی ندارد، اس کرپشن کو بے نقاب کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ SEF میں جمع شدہ بچوں کے داخلے فارم اورGR(جنرل رجسٹر) پر درج ایڈریس چیک کیا جائے تو حقیقت کھل کے سامنے آجائے گی کہ سندھ کے غریب والدین کے بچوں کو تعلیمیافتہ بنانے کے نام پر اربوں روپے کب اور کیسے ہڑپ کئے گئے۔

(جاری ہے)

ایسی ہی واردات ایک نومولود این جی او جس میں کراچی کے نامی گرامی صنعتکار شامل تھے 2015-16میں کرکے برطانوی اداریDFIDسے اسکول نہ جانے والے بچوں کے نام پر اربوں بٹور کر رفو چکر ہو چکی ہے،تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوئی،جن بچوں کے نام پر بھاری رقوم وصول کر کے ہڑپ کی جاتی ہیں وہ آج بھی اسکولوں سے باہر اور دربدر ہیں۔