بلدیہ حیدرآباد میں سیاسی بنیادوں اور اثرورسوخ کی بناء پر غیرقانونی ترقیاں حاصل کرنے والے افسران کو اپنے کاغذات سمیت کراچی طلب

واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس(ر)امیرہانی مسلم کے احکامات پر سیکریٹری آبپاشی وچیئرمین ٹاسک فورس واٹرکمیشن جمال مصطفی قاضی کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس کے سامنے طلب کر لیا

اتوار مئی 23:00

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل کردہ واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس(ر)امیرہانی مسلم کے احکامات پر سیکریٹری آبپاشی وچیئرمین ٹاسک فورس واٹرکمیشن جمال مصطفی قاضی نے بلدیہ حیدرآباد میں سیاسی بنیادوں اور اثرورسوخ کی بناء پر غیرقانونی ترقیاں حاصل کرنے والے افسران کو اپنے کاغذات سمیت کراچی طلب کرلیا ہے۔

بلدیہ کے شعبے اربن ری ہیبلیٹیشن کے انسپکٹر محمد اکرم نے واٹر کمیشن کے چیئرمین جسٹس(ر) امیر ہانی مسلم کو ایک تحریری درخواست دی تھی جس میں انہیں بتایا گیا تھا کہ بلدیہ کے افسران سپریم کورٹ کے احکامات کا مذاق اُڑاتے ہوئے غیرقانونی ترقیاں حاصل کرنے والوں کیخلاف کارروائی نہیں کررہی جس پر جسٹس(ر) امیر ہانی مسلم نے جمال مصطفی قاضی کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دی اور انہوں نے غیرقانونی ترقی پانے والے بلدیہ کے افسران کو اپنے دستاویزات سمیت پیر کو طلب کرلیا ہے۔

(جاری ہے)

جن میں ظفراحمد جوکہ بلدیہ میں 5گریڈ میں لاری ڈرائیور بھرتی ہوئے تھے اور انہوں نے غیرقانونی ترقیاں حاصل کیں اور اب وہ سوشل ویلفیئر آفیسر گریڈ17،میں کام کررہے ہیں۔ اسی طرح مکرم خان جوکہ 16گریڈ میں ٹائپسٹ بھرتی ہوئے تھے اور اب غیرقانونی ترقیاں حاصل کرکے 18 گریڈ میں کام کررہے ہیں۔ الطاف بیگ 14 گریڈ میں ٹائپسٹ بھرتی ہوئے اور اس وقت 17گریڈ میں کام کررہے ہیں۔

محمد یونس قریشی جوکہ 5گریڈ میں آکٹرائے کلرک بھرتی ہوئے تھے اب 17 گریڈ میں چیف فائر آفیسر ہیں، عقیل احمد خانزاہ جوکہ 6گریڈ میں بھرتی ہوئے تھے اور اس وقت اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیلتھ کی گریڈ 17 کی پوسٹ پر غیرقانونی طورپر کام کررہے ہیں۔ رئیس احمد راجہ ایک گریڈ کے مالی کی پوسٹ پر بھرتی ہوئے اور غیرقانونی طورپر 5گریڈ میں ترقیاں حاصل کی پھر 12 گریڈ میں ترقیاں حاصل کیں، ان کیخلاف مختلف مقدمات میں ایف آئی آر بھی درج ہیں۔

اسی طرح محمد رفیق راجپوت جوکہ 5گریڈ میں اُردو ٹائپسٹ بھرتی ہوئے اور اس وقت 18 گریڈ میں ڈائریکٹر ہیلتھ کی پوسٹ پر تعینات ہیں۔ عارف علی 5گریڈ میں نائب قاصد کی پوسٹ پر بھرتی ہوئے اور چند ہی روز میں غیرقانونی بھرتی پاتے ہوئے 12 گریڈ میں پہنچ گئے۔ عبدالمجید جوکہ اینمل ہسبنڈری سے بلدیہ میں آئے اس وقت کچی آبادی میں آفس سپرنٹنڈنٹ کی پوسٹ پر کام کررہے ہیں۔ اسی طرح دیگر پوسٹوں پر بھی یہی صورتحال ہے۔ مذکورہ افسران کیخلاف 5 جنوری 2015ء کو سپریم کورٹ نے کارروائی کرنے کے احکامات دیئے تھے لیکن بلدیہ انتظامیہ نے انہیں تحفظ فراہم کیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اس وقت بھی بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے میئر انہیں ہر قسم کا تحفظ فراہم کررہے ہیں۔