آزادکشمیر کا بجٹ1کھرب8ارب20کروڑ روپے تک بڑھانے پر وفاقی حکومت کا شکرگزار ہوں‘ وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی

اتوار مئی 23:30

مظفر آباد۔27 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس اتوار کے روز ڈپٹی سپیکر سردار فاروق احمد طاہر کی زیر صدارت تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ۔ اجلاس کے آغاز پر بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے آزادکشمیر کے وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی نے کہاکہ آزادکشمیر کا بجٹ1کھرب8ارب20کروڑ روپے تک بڑھانے پر قائد محمد نواز شریف ، وزیرا عظم پاکستان شاہد خاقان عباسی ، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور احسن اقبال کا شکرگزار ہوں ۔

انہوںنے کہاکہ آزادکشمیر کے نارمل اور ترقیاتی بجٹ میں اضافہ وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت اور کاوشوں کے نتیجہ میں ہوا ہے ۔ سیاحت کے فروغ، سڑکوں کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھارہے ہیں ۔

(جاری ہے)

پاکستان کو آزادکشمیرسے ملانے والی اور بین الاضلاعی تمام شاہرات کو معیاری بنایا جارہاہے ۔مظفرآباد میں ڈینٹل کالج قائم کیا جا رہا ہے ۔

سڑکوں کے ٹینڈرنگ پراسس شفاف کر دیے گئے ہیں ۔ ٹینڈرز میں 60کروڑ روپے کی بچت کی گئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے ۔ وزیر خزانہ نے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے ایوان کو بتایاکہ قبل ازیں آزادحکومت آسامیوں کی تخلیق سمیت دیگر اخراجات و ضروریات کیلئے وفاق سے منظوری حاصل کرتی تھی جبکہ اب آزاد حکومت حاصل ہونے والی مالیاتی خودمختاری کے مطابق اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے آسامیوں کی تخلیق اور دیگر ضروریات کی منظوری خود دے سکے گی۔

انہوں نے بتایا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ہمارے پاس ملازمین کو بروقت تنخواہیں ادا کرنے کیلئے رقم نہ تھی۔ سابق حکومت جی پی ایف ، پی ڈی ایس پی ، جوڈیشنل ڈیپازٹ اور ریونیو کی رقم استعمال کر چکی تھی ۔ ہم نے بہتری فنانشل مینجمنٹ کے تحت مسائل پر خصوصی توجہ دی ۔ ہمارے دور میں ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی گئی ۔

انہوںنے کہاکہ آزادحکومت تعلیم پر 25،پنشن پر17،جنرل ایڈمنسٹریشن پر 2ارب 50کروڑروپے خرچ کریگی جبکہ پولیس پر 5ارب، جوڈیشری پر 1 ارب کروڑاور بجلی پر ساڑھے 4 ارب روپے خرچ کریگی ۔ انہوں نے کہاکہ واٹر یوزز چارجز کی رقم 15پیسے سے بڑھا کر 1روپی10پیسے کیے جانے کی کارروائی زیر کار ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافہ آزادحکومت اپنے نارمل بجٹ سے دے گی جبکہ ہائوس رینٹ میں اضافہ پر1ارب روپے خرچ ہونگے ۔

تینوں میڈیکل کالجز کو نارمل میزانیہ پر لایا جارہا ہے ۔ محکمہ بہبود آبادی اور نیشنل پروگرام کی مجموعی طور پر ساڑھے 4ہزار خواتین ہیلتھ ورکرز کو مستقل کیا جارہا ہے ۔ آئندہ بجٹ میں وفاقی محصولات کا 10فیصد سے زائد اضافہ ہوگا ۔ پی ایس ڈی پی سے پہلے ہمیں 11ارب روپے ملتا تھا اب 24ارب روپے ملا کریگا۔ مختلف شعبہ جات میں صرف1سال کیلئے شارٹ ٹرم رقم مختص کی گئی ہے ۔

سکولوں میں سہولیات کیلئے رقم مختص کی گئی ہے۔ جبکہ ایل او سی پیکج کے تحت13کروڑ روپے 11حلقوں کے لائن آف کنٹرول سے ملحقہ علاقوں میں خرچ ہونگے۔ فری ایمرجنسی ہیلتھ سروسز کیلئے 10کروڑ اور ڈائیلاسز کیلئی5کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ فری ایمرجنسی ہیلتھ سروسز، این ٹی ایس کے نفاذ اور بہترین پبلک سروس کمیشن کی تشکیل سے عام آدمی مستفید ہورہا ہے ۔

روڈ مشینری اور ہسپتالوں میں جدید سامان کی خرید کیلئے رقم مختص کی گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آڈٹ رپورٹس پچھلے 4سال کی ہیں جن میں ایک سال کی صرف29آڈٹ رپورٹس ہیں جو 2016کے بعد کی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایوان کے 96فیصد ممبران نے بجٹ بحث میں حصہ لیا جو ریکارڈ ہے ۔ وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان کی انتھک محنت سے جہاں بجٹ میں اضافہ ہوا ہے وہاں جلد عوام آئینی پیکج کے بارہ میں بھی خوشخبری سنیں گے۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم آزادکشمیر کی انتھک محنت، اور جرات مندانہ قیادت کی بدولت مالیاتی خود مختاری یاور آئینی ترمیم ہو رہی ہے ۔