امید ہےکل خورشید شاہ کیساتھ نگراں وزیراعظم پراتفاق ہوجائیگا

بد قسمتی سے خورشید شاہ کے ساتھ نگراں وزیراعظم پر اتفاق نہ ہو سکا، ہمیں ماضی سے سبق حاصل کرنا چاہیے اورفیصلہ عوام پرچھوڑدینا چاہیے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی نجی ٹی وی سےخصوصی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار مئی 23:30

امید ہےکل خورشید شاہ کیساتھ نگراں وزیراعظم پراتفاق ہوجائیگا
اسلام آباد (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔27 مئی 2018ء) : وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ امید ہے کل خورشید شاہ کے ساتھ نگراں وزیراعظم پر اتفاق کرلیا جائےگا۔ بدقسمتی سے خورشید شاہ کے ساتھ نگراں وزیراعظم پر اتفاق نہ ہو سکا،ہمیں ماضی سے سبق حاصل کرنا چاہیےاورفیصلہ عوام پرچھوڑدینا چاہیے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کچھ بنیادی اصولو ں پرکمپرومائز نہیں کرے گی۔

کوئی حلقہ ایسا نہیں جہاں پرہمارے پاس الیکشن لڑنے کیلئے مضبوط امیدوار نہ ہو۔لیکن جو لوگ گئے ہیں یہ وقتی فیصلہ ہے لیکن اس میں ان کو عزت نہیں ملے گی۔ ایسے لوگوں کا ملکی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔4سال ہمارے ساتھ رہے لیکن آخری پندرہ دنوں میں ان کو ایسی کیا مشکل آگئی کہ وہ چلے گئے چند دن اور گزار لیتے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری سیاست میں ایسے لوگ آئے اور عوام نے ایسے لوگوں کو منتخب بھی کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن میں جماعت کا بیانیہ ایک ہی ہوتا ہے ۔ ہماری جماعت الیکشن میں کارکردگی کی بنیاد پرہی جائے گی۔ہماری مرکزی اور پنجاب حکومت نے جوکام کیے ہیں ہمارے کاموں کو عوام جانتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایک ہی جماعت ہے کواصولوں پرالیکشن لڑ رہی ہے وہ جماعت اقتدار کی حوس میں الیکشن نہیں لڑرہی ہے۔ ہم نے جب پاکستان کا اقتدار سنبھالا تومشکل میں تھا لیکن اب نگران حکومت کو بڑا بہتر پاکستان دے کرجارہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نیب کورٹ سے نوازشریف کو انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔ کیسز ہیں کہ سال میں دوپیشیاں نہیں ہوتیں۔ لیکن یہاں دن میں دو دو پیشیاں ہورہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں برملا کہتا ہوں کہ وہ اصولوں کیلئے جیل بھی جائیں گے۔۔نوازشریف اصولوں کیلئے جیل جانے کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ عوا م ہمارے اصولوں اور نوازشریف کے بیانیئے کو جانتے ہیں۔

لوگ جانتے ہیں ایک بندہ اربوں روپے کھا گیا لیکن ان کی کوئی پیشی نہیں ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک بندے پرکوئی الزام نہیں ہے تواس کوآپ نے وزارت عظمیٰ سے نکال دیا، پارٹی صدارت سے نکال دیا، اور اب کیا کریں گے؟نوازشریف نے پاکستان کی خدمت کی ہے۔۔نوازشریف نے پاکستان کی سمت درست کی ہے۔اگر میں نوازشریف کو محب وطن اور صاف شفاف نہ سمجھتا توپارٹی میں نہ ہوتا۔

انہوں نے کہاکہ نوازشریف کے بیان پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔کیونکہ یہ بیان اخبار میں چھپا ہے۔جس کے باعث بھارت نے پروپیگنڈا کیا۔ انہوں نے کہاکہ بیان کسی نے پڑھا نہیں لیکن پروپیگنڈا کیا گیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اس لیے بلایا کہ بھارت میں جو پروپیگنڈا ہے اس کا جواب دیا جاسکے۔۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج جیسے حالات ہیں ملک چلانا ناممکن ہوچکا ہے،جس ملک میں قیادت فیصلہ کرنا چھوڑ دے وہ ملک کیسے ترقی کرےگا؟ بیوروکریسی کوئی سمری پیش کرنے کو تیار نہیں ہے، ہرافسر سمری پردستخط کرنے سے گھبراتا ہے کہ کل کونیب گریبان پکڑے گی اور میڈیا میں اچھالا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں مل بیٹھ کرمتفقہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو ختم کرنے کیلئے ہم نے مفاہمت قائم کرنے کی کوشش کی۔ نیب ڈکٹیٹر نے بنایا۔ سیاستدانوں کو دباؤ میں رکھنے کیلئے پیپلزپارٹی کی حکومت انہوں نے ختم نہیں کیا پھر ہماری حکومت آئی ہم نے بھی ختم نہیں کیا۔ کیونکہ جو بھی ختم کرے گا اس پرالزام لگیں گے انہوں نے احتساب سے ڈر کر اس ادارے کو ختم کردیا۔

انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ امید ہے کل خورشید شاہ کے ساتھ نگراں وزیراعظم پر اتفاق کرلیا جائےگا۔ بدقسمتی سے خورشید شاہ کے ساتھ نگراں وزیراعظم پر اتفاق نہ ہو سکا۔ ہمارا اصرار ہے نگراں وزیراعظم پر ہمارے دیے گئے نام پراتفاق ہو۔ پیپلز پارٹی کا اصرار ہےنگراں وزیراعظم کیلیےان کےنام پر اتفاق ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی سے سبق حاصل کرنا چاہیےاورفیصلہ عوام پرچھوڑدینا چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر کیساتھ نگراں وزیراعظم پر اتفاق نہ ہوا تو معاملہ کمیٹی کوبھیجیں گے۔