توقع ہے کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد آج کر لیا جائے گا، عام انتخابات وقت پر ہوں گے، ہمیں اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیئے اور چور دروازوں سے کسی کو راستہ نہیں دینا چاہیئے، بروقت الیکشن نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہو گی، ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، نیب کی اس عدالت سے مجھے محمد نواز شریف کو انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں، حکومت کسی کی بھی ہو موجودہ حالات میں ملک چلانا انتہائی مشکل ہے، پارٹیاں چھوڑنے سے کبھی کسی نے عزت نہیں کمائی اور مسلم لیگ (ن) کو پارٹی چھوڑ کر جانے والوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہماری جماعت کے پاس ہر حلقے میں 3 سے 4 مضبوط امیدوار موجود ہیں جو انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں گے اور کامیاب ہوں گے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو

پیر مئی 00:20

اسلام آباد۔27 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد آج کر لیا جائے گا، عام انتخابات وقت پر ہوں گے، ہمیں اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیئے اور چور دروازوں سے کسی کو راستہ نہیں دینا چاہیئے، بروقت الیکشن نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہو گی، ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، نیب کی اس عدالت سے مجھے محمد نواز شریف کو انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں، حکومت کسی کی بھی ہو موجودہ حالات میں ملک چلانا انتہائی مشکل ہے، پارٹیاں چھوڑنے سے کبھی کسی نے عزت نہیں کمائی اور مسلم لیگ (ن) کو پارٹی چھوڑ کر جانے والوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہماری جماعت کے پاس ہر حلقے میں 3 سے 4 مضبوط امیدوار موجود ہیں جو انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں گے اور کامیاب ہوں گے، پاکستان مسلم لیگ (ن) آئندہ عام انتخابات میں اپنی گزشتہ 5 سالہ کارکردگی کا بیانیہ لیکر جائے گی، ہم پرعزم ہیں کہ ہم عوام میں سرخرو ہوں گے کیونکہ ہم نے 2013ء میں عوام سے کیے گئے تمام وعدوں کو پورا کیا ہے، آج ملک میں پاکستان مسلم لیگ (ن) ہی وہ واحد جماعت ہے جو اصولوں پر قائم ہے اور کسی اقتدار کی ہوس میں انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی بلکہ ہماری قیادت تو عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور ہم اسی عوامی خدمت کے سفر کو جاری بھی رکھے ہوئے ہیں، 2013ء میں جب ہم نے اقتدار سنبھالا تھا تو دہشت گردی و انتہا پسندی سمیت ملک کو توانائی بحران کے چیلنجز درپیش تھے جنہیں ہم نے حل کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج کا پاکستان 2013ء کے پاکستان سے کافی بہتر اور پرامن ہے جس کی ملکی معیشت بھی مستحکم ہو رہی ہے اور اس کا اعتراف عالمی اعدادوشمار میں بھی کیا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو ایک نجی ٹی وی چینل کوخصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے لیے اپوزیشن لیڈر خورشید احمد شاہ سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کسی حتمی نام کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تاہم آج پیر کو ان سے پھر ایک ملاقات ہے اور امید ہے کہ اس میں کسی نام پر اتفاق ہو جائے گا لیکن اگر نگران وزیراعظم کے لیے کسی نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو پھر یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا اور اگر وہاں بھی کوئی فیصلہ نہ ہوا تو پھر یہ معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جائے گا اور وہاں کسی ایک حتمی نام کا فیصلہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا اصرار ہے کہ نگران وزیراعظم ان کے دئیے گئے ناموں میں سے کوئی ہو اور ہم چاہتے ہیں کہ نگران وزیراعظم ہمارے دئیے گئے ناموں میں سے ہو اور جو نام ہم نے تجویز کیے ہیں ان کا ہماری پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں عام انتخابات بروقت ہوں گے، ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنا چاہیئے اور چور دروازوں سے کسی کو راستہ نہیں دینا چاہیئے بلکہ فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیئے۔

ہمارا آئین بھی یہی کہتا ہے کہ ملک میں 60 روز کے اندر انتخابات ہوں اور جو نہیں کرائے گا وہ آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد بہت ضروری ہے تاکہ ملک آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے عوام کو موقع دینا چاہیئے تاکہ وہ بغیر کسی دبائو اور بلا خوف و خطر اپنے ووٹ کا بنیادی حق استعمال کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام حقائق کا عوام کے سامنے آنا بھی ضروری ہے اور اس کے لیے ایک ایسا فورم بننا چاہیئے جسے پارلیمان بنائے اور اس پر اتفاق رائے بھی ہو۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام معاملات آئین کے مطابق حل ہونے چاہیئں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی چھوڑنے والوں کا اپنا فیصلہ ہے جس کا میں احترام تو کرتا ہوں لیکن اتفاق نہیں کرتا کیونکہ یہ بات حقیقت ہے کہ پارٹیاں چھوڑنے سے کبھی کسی نے عزت نہیں کمائی، الحمدللہ ہماری جماعت کے پاس ہر حلقے میں 3 سے 4 مضبوط امیدوار موجود ہیں جو انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں گے اور انشااللہ جیتیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی چھوڑنے والے 4 سال 11 مہینے تک تو ہمارے ساتھ رہے جہاں انہوں نے کبھی کوئی نقطہ اعتراض نہیں اٹھایا پھر اچانک انہیں ایسا خیال کیسے آ گیا انہیں یہ بھی عوام کو بتانا پڑے گا کہ اچانک ایسی کیا وجہ بنی کہ 30،40 دنوں میں انہوں نے پارٹی بدلنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت آئندہ عام انتخابات میں اپنی گزشتہ 5 سالہ کارکردگی کی بنیاد پر حصہ لے گی اور ہم پرعزم ہیں کہ ہم عوام میں سرخرو ہوں گے کیونکہ ہم نے عوام سے کیے گئے تمام وعدوں کو پورا کیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ الحمدللہ آج ملک میں پاکستان مسلم لیگ (ن) ہی وہ واحد جماعت ہے جو اصولوں پر قائم تھی، ہے اور رہے گی، ہماری قیادت عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور ہم اسی عوامی خدمت کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوری طرح مطمئن ہیں کہ عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو جو اقتدار دیا تھا ہم نے اسے بہترین عوامی مفاد کے لیے استعمال کیا ہے اور 2013ء میں جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو دہشت گردی و انتہا پسندی سمیت ملک کو توانائی بحران کے چیلنجز درپیش تھے جنہیں ہم نے حل کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج کا پاکستان 2013ء کے پاکستان سے کافی بہتر اور پرامن ہے جس کی ملکی معیشت بھی روز بروز مستحکم ہو رہی ہے اور اس کا اعتراف عالمی اعدادوشمار میں بھی کیا جا رہا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں بارہا مرتبہ یہ بات کہہ چکا ہوں کہ نیب کی اس عدالت سے مجھے محمد نواز شریف کو انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں ہے اور یہ حالات بھی واضح کر رہے ہیں کہ ان پر کس طرح کے ریفرنسز دائر کیے گئے۔ محمد نواز شریف نے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ کیا اور نہ کریں گے۔ جنرل اسد درانی کی کتاب کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک میرے علم میں بات آئی ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور راء کے سابق سربراہ نے ایک کتاب لکھی ہے جو میری نظر سے نہیں گزری لیکن بعض ایسے حقائق ہوتے ہیں جو قومی سلامتی سے متعلق ہوتے ہیں جنہیں جاری کرنے یا نہ کرنے سے متعلق قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ کل منگل کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے اور امید ہے کہ اس میں جہاں دیگر مسائل پر بات ہو گی وہاں اس معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سول اور عسکری قیادت مین اعتماد سازی کی سنجیدہ کوشش کی گئی اور میں سمجھتا ہوں کہ پیچیدہ حالات کے باوجود اعتماد سازی میں بہتری آئی ہے اور بہت سے ایشوز پر عمومی طور پر اتفاق رائے دیکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی، عسکری اور جوڈیشل قیادت پر مشتمل ڈائیلاگ کا ایک عمل بھی ہونا چاہیئے تاکہ ملک بآسانی آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جو موجودہ حالات میں ان میں حکومت کسی کی بھی ہو اس کے لیے حکومت چلانا مشکل ہے۔ وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں بیورو کریسی کام نہیں کر پائے گی اور جب ہر فیصلے پر سوال اٹھایا جائے گا تو کوئی بھی کام نہیں ہو پائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے سینکڑوں ارب روپے کے فیصلے ہیں جو ہم نہیں کر پا رہے کیونکہ بیورو کریسی عدلیہ اور نیب کے خوف سے قومی مفاد کے یہ فیصلے کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ایک آمر نے سیاستدانوں کو دبانے اور وفاداریاں تبدیل کرانے کے لیے بنایا، ہماری کوشش تھی کہ اتفاق رائے سے اسے ختم کیا جائے لیکن نہ ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت اور نہ ہی ہم اسے تبدیل کر پائے، ڈائیلاگ کے عمل میں یہ بھی زیر غور لایا جانا چاہیئے کہ نیب جو کر رہا ہے وہ ملکی مفاد میں ہے یا نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ایمنسٹی سکیم متعارف کرائی ہے اور ٹیکس کی شرح کو 50 فیصد سے بھی کم اور آسان کر دیا ہے اور رئیل اسٹیٹ کے رخنوں کو بھی بند کر دیا ہے تاکہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھے اور لوگ ایمنسٹی اسکیم سیے استفادہ حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قومی اسمبلی سے واضح پالیسی بھی منظور کرا لی ہے اور اگر عوام نے ہم پر اعتماد کیا تو اگلے دور حکومت میں اسے آگے بڑھائیں گے تاہم کوئی بھی حکومت آئی تو وہ اس کا کوئی نقطہ بھی تبدیل نہیں کر پائے گی کیونکہ یہ ایک واضح پالیسی ہے جس سے ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا۔