یوم تکبیر ہماری قومی تاریخ کا وہ سنہرا دِن ہے جس دِن پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت کے طورپر اٴْبھرا‘ یہ وہ دِن ہے جس دِن پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوگیا اور جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن قائم ہوگیا

یوم تکبیرکے موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا پیغام

پیر مئی 00:20

اسلام آباد۔27 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یوم تکبیر ہماری قومی تاریخ کا وہ سنہرا دِن ہے جس دِن پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت کے طورپر اٴْبھرا‘ یہ وہ دِن ہے جس دِن پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوگیا اور جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن قائم ہوگیا۔ یوم تکبیر کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ 11مئی 1998ء کو بھارتی ایٹمی دھماکوں نے جہاں ہمسایہ ملک کے جارحانہ عزائم کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا وہاں خطے میں طاقت کے توازن اور امن کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔

وطنِ عزیز کے دفاع اور سلامتی کا تقاضہ تھا کہ تمام تر مصلحتوں اور دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی مفاد کے پیش نظر مشکل فیصلے کئے جائیں۔

(جاری ہے)

الحمد للہ یہ شرف مسلم لیگ (ن) کی محبِ وطن قیادت کو ہی نصیب ہوا کہ جس نے تمام تر یکطرفہ عالمی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر28مئی 1998کو بھارتی دھماکوں کے جواب میں پانچ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا۔

اِس دن ہماری قیادت نے دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ وطن کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے اور اسے بیرونی جارحیت سے محفوظ رکھنے کے سلسلے میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا ۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یوم تکبیر ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ اس دن ہم پاکستان کے دفاع اور سلامتی کے عہد کی تجدید کریں۔یہ دن اس عہد کی تجدید کا بھی لمحہ ہے کہ ہم ملکی سالمیت اور تعمیر و ترقی کے فیصلوں میں ہمیشہ قومی مفاد کو مد نظر رکھیں۔

مجھے اس بات پر بے حد فخر ہے کہ مسلم لیگ ن کے اس پانچ سالہ دورِ حکومت میں جہاں ملکی سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے وہاں معاشی شعبے میں بھی ملک کوترقی کی راہ پر گامزن کیا گیا ہے۔ ہم نے تعمیر و ترقی کی ایک ایسی مضبوط بنیاد رکھی ہے جس پر مستقبل میں تعمیر ہونے والی عمارت ملک و قوم کو اقوام ِ عالم میں سرخرو کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگی۔ مجھے پوری امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور عوام کی تائید سے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے اور اسے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں لانے کا سفر جاری و ساری رہے گا۔