کپاس کے کاشتکاربہتر پیداوار کیلئے فصل کی باقاعدگی سے پیسٹ سکائوٹنگ کریں،محکمہ زراعت

پیر مئی 12:00

لاہور۔28 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) کپاس کے کاشتکار زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے فصل کی باقاعدگی سے پیسٹ سکائوٹنگ کریں اور کپا س کے ضرررساں کیڑوں خصوصاًً گلابی سنڈی اور سفید مکھی پر نظر رکھیں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق کپاس کو ملکی معیشت میں اہم حیثیت حاصل ہے ۔ترجمان کے مطابق محکمہ زراعت پنجاب امسال کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے حملہ سے بچانے کے لیے اور ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات بروئے کار لائے گا۔

ترجمان نے بتایا کہ اگر کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی اور سفید مکھی کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے زیادہ ہو تو کاشتکار فصل پر محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ کیڑے مار زہر کا سپرے کریں۔

(جاری ہے)

کھیلیوں پر کاشت کی صورت میں منظور شدہ بی ٹی اقسام کا بر اترا ہوا بیج 6سے 8کلو گرام فی ایکڑ جبکہ ڈرل سے کاشت کے لیے 8سے 10کلو گرام بر اترا ہوا بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔

کاشتکار بوائی سے پہلے بیج کو سفارش کردہ زہر لگائیںتاکہ فصل ابتداء میں رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاًً سفید مکھی کے حملہ سے محفوظ رہے ۔ ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ ڈرل سے قطاروں میں کاشت کی گئی کپا س کا قد ڈیڑ ھ سے دو فٹ ہونے پر پودوں کی ایک لائن چھوڑ کر دوسری لائن پر مٹی چڑھا کر پٹریاں بنادیںتاکہ پانی کی بچت ہو جبکہ کپاس کے کھیتوں اور کھالوں کے ارد گرد جڑی بوٹیوں کی تلفی یقینی بنائیں ۔

متعلقہ عنوان :