انگلش کپتان جو روٹ نے میچ فکسنگ سے متعلق الجزیرہ کی رپورٹ مسترد کر دی

انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات انتہائی اشتعال انگیز ہیں ،ْجوروٹ ہم نے ابھی تک کوئی ایسے شواہد نہیں دیکھے جن کی وجہ سے اپنے کھلاڑیوں پر کسی قسم کا بھی شک کریں ،ْچیف ایگزیکٹو انگلینڈ کرکٹ بورڈ

پیر مئی 12:50

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) انگلش کرکٹ ٹیم کے کپتان جوروٹ نے میچ فکسنگ سے متعلق الجزیرہ کی رپورٹ کو مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات انتہائی اشتعال انگیز ہیں۔تفصیلات کے مطابق عرب ٹی وی نے اپنی ڈاکومینٹری میں 2016 کے بھارت اور انگلینڈ کے درمیان چنئی ٹیسٹ میں فکسنگ کا انکشاف کیا تھا۔

رپورٹ میں بھارت،، آسٹریلیا اور انگلینڈ سمیت کئی ممالک کے کرکٹرز کا فکسنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 2016 میں بھارت اور انگلینڈ کے درمیان چنئی ٹیسٹ میں 3 انگلش پلیئرز نے فکسنگ کی، اس ٹیسٹ میں بھارت کو 75 رنز سے فتح ملی تھی۔انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے الجزیرہ کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

(جاری ہے)

انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا موقف ہے کہ فکسنگ سے متعلق ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ آسٹریلوی بورڈ نے بھی ڈاکومینٹری میں فکسنگ انکشافات کو من گھڑت قرار دیا ہے۔انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹام ہیریسن کا کہنا ہے کہ ہم نے ابھی تک کوئی ایسے شواہد نہیں دیکھے جن کی وجہ سے ہم اپنے کھلاڑیوں پر کسی قسم کا بھی شک کریں۔انہوںنے کہاکہ ہمیں جو محدود معلومات فراہم کی گئی ہیں ہم نے اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ اس پر بات کی ہے۔

انگلینڈ کے کوچ ٹریور بیلس نے بھی ان الزامات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بس انگلش کرکٹ بورڈ پر یہ معاملہ چھوڑ دینا چاہیے۔آسٹریلیا کی کرکٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھیں کھلاڑیوں کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے حوالے سے کسی ٹھوس شواہد کا علم نہیں ہے۔۔کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہم نے ابھی یہ دستاویزی فلم نہیں دیکھی ہے مگر ہمارا موقف ہے کہ ایسے تمام معاملات کو سنجیدگی اور مکمل انداز میں جانچا جانا چاہیے۔بورڈ نے الجزیرہ سے استدعا کی ہے کہ آئی سی سی کی انسدادِ بدعنوانی ٹیم کو مکمل فوٹیج فراہم کی جائے۔

متعلقہ عنوان :